Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

’’آپ جس کی ڈیوٹی کررہے ہیں، جلدی ڈی آئی جی بن جائیں گے‘‘

جسٹس امجد علی سہتونے ریمارکس دیے کہ آپ جس کی ڈیوٹی کررہے ہیں جلدی ڈی آئی جی بن جائیں گے، کیا آپ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں سکرنڈ میں چارافراد کی ہلاکت کے کیس میں پراسیکیوٹرجنرل سندھ، ایس ایس پی بے نظیرآباد و دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے، پراسیکیوٹرنےعدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پرعمل درآمد کردیا گیا ہے چالان کیس کا جمع کرادیا گیا ہے.

جسٹس امجدعلی سہتونے ریمارکس دیے کہ چالان نامعلوم افراد کے خلاف جمع کرایا گیا ہے، مسٹر پی جی۔ ڈی آئی جی کی رپورٹ پڑھ کرسنائیں، کیا کیس کا مدعی بھی موجود ہے۔ پولیس افسران نے جواب دیا کہ جی کیس کا مدعی مقدمہ موجود ہے۔

عدالت نے پراسکیوٹرجنرل سندھ سےاستفسارکیا کہ فائنل رپورٹ کی کاپی کہاں ہے؟  ایک جگہ لکھتے ہیں گاؤں والے نے اپنے گاؤں والوں کوماردیا، چالیس ملین کیوں دے رہے ہیں، لوگوں کے ٹیکس کا پیسا ہے، جن گاؤں والوں نے مارا ہے ان کو ملزمان بنائیں۔ چالیس ملین کس بات کسے دیے جارہے ہیں۔

پراسیکیوٹرجنرل نے بتایا کہ سندھ یہ دو واقعات ہیں جس پرجسٹس امجد علی سہتونے کہا کہ اتنا سسٹم طاقت ورہوگیا ہے، چار پانچ لوگ مرگئے، 8 زخمی ہیں کوئی بتانے والا نہیں ہے۔ ان لوگوں نے وہاں جینا ہے، اللہ کو جواب نہیں دینا ہے آپ نے، مرنا نہیں ہے آپ کوڈی آئی جی تک اصل لوگوں کونام دینے کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔

عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کس کو بچانے میں لگے ہوئے ہو؟ کیا آپ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں، جب آپ لوگوں کو پتا چلا کہ مرنے والے بے گناہ تھے تو پیسے دے رہے ہو۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹونے زخمی شہری سے استفسارکیا کہ آپ لوگ تو سچ بولیں۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے جواب دیا کہ کراس فائرنگ میں شہری ہلاک ہوئے ہیں جس پر جسٹس امجد علی سہتونے کہا کہ آپ جس کی ڈیوٹی کررہے ہیں، جلدی ڈی آئی جی بن جائیں گے۔ سسٹم کو آج آپ نے بلاک کردیا ہے لوگوں کو ملزمان بنائیں۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹونے کہا کس کو کہیں ہم آپ کو بچانے کے لیے پورا سسٹم اکھٹا ہوگیا ہے۔

حیدرامام رضوی وکیل درخواست گزارنےعدالت کوبتایا کہ  آج تک انکوائری رپورٹ کوعدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے، پولیس کی تحقیقات پرپہلے دن سے یقین نہیں ہے۔ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

حبیب احمد وکیل رینجرزنے بتایا کہ یہ درخواست غیرمؤثرہوچکی ہے دو کیسز کا چالان پیش کیا جا چکا ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ سندھ حکومت کو معاوضے سے متعلق نوٹیفیکشن پیش کردیا گیا، کیس کا عبوری چالان جمع کرادیا گیا ہے، ڈی آئی جی شہید بے نظیرآباد آئندہ سماعت پر مزید تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کریں۔ اس کے ساتھ ہی سندھ ہائی کورٹ نے مزید سماعت 14 دسمبرتک ملتوی کردی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/  کولائک کریں۔ ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version