جان کا نذرانہ پیش کرکے مادر وطن کا دفاع کرنے والے میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا آج 52ویں یوم شہادت ہے۔
نشانِ حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے، جو اب تک پاک افواج کے گیارہ جوانوں کو مل چکا ہے۔ نشانِ حیدر حضرت علی ؓ سے موسوم ہے کیونکہ ان کا لقب حیدرکرار ہے اور ان کی بہادری ضرب المثل ہے۔
یہ نشان صرف ان جانبازوں کو دیا گیا ہے، جو وطن کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔
دشمن تعداد میں جتنا بھی بھاری ہو۔ جنگ میں جرات و بہادری اور ہر قیمت پر مادر وطن کی حفاظت کا جذبہ ہی امر ہوتا ہے۔ میجرمحمد اکرم شہید نے1971 کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پرعظیم قربانی کی لازوال تاریخ رقم کی۔ آج ان کا یوم شہادت ہے۔
نشان حیدر کا اعزاز پانے والے میجر محمد اکرم شہید نے فرض کی ادائیگی میں مادر وطن پر جاں نچھاور کرتے ہوئے جرات و بہادری کا ایسا مظاہرہ کیا کہ جنگی تاریخ میں مثال بن گئے۔
میجر محمد اکرم شہید ضلع گجرات کے گائوں ڈینگا میں چار اپریل 1938 کو پیدا ہوئے۔ 13 اکتوبر 1963 کو پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
میجر محمد اکرم شہید کی پوسٹنگ جولائی 1968 میں مشرقی پاکستان ہوئی۔ جب 1971 کی پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو میجر محمد اکرم نے اگلے مورچوں پر ہلی ڈسٹرکٹ میں فور فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمان سنبھالی۔
دشمن ایک مکمل بریگیڈ کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ٹینکوں، توپ خانہ کے ساتھ ساتھ فضائی مدد بھی حاصل تھی۔ مگر اسلحہ اور نفری میں دشمن کی کئی گنا واضح برتری کے باوجود میجر محمد اکرم شہید کی جرات مندانہ اور بہادر قیادت میں پاک فوج کی کمپنی سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔
دشمن کو دو ہفتوں تک ناکوں چنے چبوائے گئے۔ ہر حملہ ناکام بنایا اور بھاری نقصان پہنچایا۔
میجر محمد اکرم شہید نے غیر معمولی بہادری، عزم اور حوصلے کی عظیم مثال قائم کی۔ فرض کی ادائیگی میں آخری حد تک گئے، پانچ دسمبر کو شہید ہوئے اور نشان حیدر کے حقدار ٹھہرے۔



















