شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے معاملے پرریاستی کرداراداکیاہے۔
سابق سفیرو رہنما پاکستان پیپلزپارٹی شیری رحمان نے بول نیوزسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلےسےلگتاہےبھارت کی اعلیٰ عدالت نےخودکےمینڈیٹ سے انحراف کیا ہے، اب کوئی توقع رکھنی بھی نہیں چاہیے۔
شیری رحمان نے کہا کہ کشمیرکےحوالےسےمودی حکومت کے ریاستی مقاصدمذموم نظرآرہےہیں، مقبوضہ جموں و کشمیرپر غیر قانونی قبضےپر ٹھپہ لگادیاہے، بھارتی سپریم کورٹ نےریاستی کرداراداکیاہے۔۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ ریاستی کردارکہیں دنیامیں سپریم کورٹ کااعلیٰ کرداربلندنہیں کرتیں۔ مجھے لگتاہےیہ فیصلہ اعلیٰ عدالتوں کا کرداربلندنہیں کم کرتاہے، جموں وکشمیرایک عالمی تنازع ہے، جواقوام متحدہ میں بھی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ بھارتی اداروں کا جوحال ہے پٹیشن دائرکرنا شہریوں کا حق ہے، مقبوضہ کشمیرکےجوحالات ہیں وہاں کے لوگ اور نئی نسل ہمت نہیں ہارے گی۔
انھوں نے مذید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے کشمیریوں کا مؤقف اور اصولی نظر آئےگا، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 5 اگست 2019 کے سیاہ اقدام کو قانونی قرار دے دیا۔



















