اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئیں حلقہ بندیاں چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
چوہدری نثارعلی خان کے حلقے این اے 53 اور پی پی دس کی حلقہ بندی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردی گئی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 کی حلقہ بندی چوہدری نثار کے قریبی دوست شیخ ساجد الرحمن نے چیلنج کی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 دسمبرتک جواب طلب کرلیا۔ کمرہ عدالت میں موجود الیکشن کمیشن کے وکیل نے نوٹس وصول کیا۔
عدالت نے سماعت کے دوران حکم دیا کہ دو دن میں الیکشن کمیشن جواب جمع کروائے۔
وکیل درخواست گزارنے مؤقف اپنایا کہ این اے 53 اورپی پی 10 سے سے ساگری کو نکال کر گوجرخان میں شامل کردیا گیا، ساگری کو دوبارہ حوالہ این اے 53 میں شامل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
شیخ ساجد الرحمن کی جانب سے وکیل کاشف ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ حلقہ این اے 53 سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار الیکشن لڑتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔
