نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک پاکستان کی کسی عدالت اور آئینی ادارے نے موجودہ نگران حکومت کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات پر تفصیل سے جائزہ لیا گیا، غیر قانونی مقیم افراد کی اپنے وطن واپسی سے متعلق اعداد و شمار وزارت داخلہ جاری کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، ان میں سے اکثریت رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی ہے، کچھ ایسے لوگ یہاں مقیم ہیں جن کی منزل کوئی تیسرا ملک ہے، ان سے مذاکرات چل رہے ہیں۔
مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے، وزیراعظم خود بھی ڈیرہ اسماعیل خان گئے، ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، ہم پاکستان کے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے وزیر داخلہ وضاحت کر چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کو سیکورٹی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جو الیکشن میں التواءکا باعث بنے، الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی انتخابات کی تاریخ میں کسی قسم کی کوئی توسیع، ترمیم یا تبدیلی ایجنڈے پر نہیں۔
مرتضیٰ سولنگی نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی عوام پچھلے پچہتر سالوں سے اپنے حق خود ارادیت کے لئے لڑ رہے ہیں، فلسطینی ریاست کے قیام کرنے میں انہیں کامیابی نہیں ملی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جو خود بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، بین الاقوامی تنازعہ ہے، نہ کشمیری عوام اپنے حق سے دستبردار ہوں گے اور نہ پاکستان اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹے گا۔



















