Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل، آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم

ریٹرننگ افسران سے متعلق سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا اور الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی اپیل پر براہ راست سماعت کے بعد چیف جسٹس نے حکم نامہ لکھوایا جبکہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز، ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمے داریاں جاری رکھے اور الیکشن کمیشن آج ہی 3گھنٹے میں شیڈول جاری کرے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں، سجیل سواتی کے مطابق سپریم کورٹ نے تین نومبر کو آٹھ فروری کو انتخابات کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریک انصاف بھی سپریم کورٹ میں درخواست گزار تھی۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے، وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، جس سیاسی جماعت کی درخواست پر انتخابات کا حکم دیا گیا درخواست گزار اسی کا رکن ہے، سنگل جج لاہور ہائیکورٹ نے غیر معمولی عجلت میں فیصلہ دیا۔

حکم نامے کے مطابق عمیر نیازی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وضاحت دیں کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ ان کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،  عدالت کو بتایا گیا کہ عمیر نیازی بیرسٹر ہیں اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، وکیل کے مطابق ہائیکورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈول جاری کرنا ممکن نہیں، سجیل سواتی کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بینچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا، ہائیکورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائیکورٹ نے اپنی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے درخواست گزار عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کے خلاف درخواست آئی تھی؟  الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی، عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا، بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، عمیر نیازی جواب دیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟لاہور ہائیکورٹ اس درخواست پر مزید کوئی کارروائی نہ کرے ، عمومی طور پر سپریم کورٹ نوٹس جاری کیے بغیر حکم معطل نہیں کرتی، الیکشن کمیشن آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرے،  الیکشن کمیشن نےانڈرٹیکنگ دی کہ آج شیڈول جاری کردیا جائے گا۔

ریٹرننگ افسران سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

 اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سر براہی میں تین رکنی بینچ الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی گئی تھی اور اپیل میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ 8 فروری کو انتخابات کروانے کے فیصلے پر عمل درآمد کروائے۔

سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس منصورعلی شاہ شامل تھے۔

 سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے سپریم  لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی،الیکشن کمیشن کی اپیل آرٹیکل 185 کے تحت تیار کی گئی ہے، ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل اسی آرٹیکل کے تحت دائر کی جاتی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی سے سوال کیا کہ اتنی کیا جلدی ہوگئی کہ اس وقت آنا پڑا؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات 8 فروری کو کروانے کے لیے آج درخواست لازم تھی، الیکشن شیڈول جاری کرنے میں وقت بہت کم ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو 8 فروری کو الیکشن کرانے ہیں، اگر میں فلائیٹ لے کر چلا جاتا تو آپ کیا کرتے؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوشش ہے کہ الیکشن کروا دیں،وکیل کے جواب پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کوشش کیوں آپ نے کرانے ہیں۔

سجیل سواتی نے کہا لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے درخواست دائر کی ہے جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ عمیر نیازی کی درخواست انفرادی ہے یا پارٹی کی جانب سے؟ سجیل سواتی نے کہا کہ عمیر نیازی پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ہیں، لاہور ہائی کورٹ میں الیکشن ایکٹ کی دفعہ 50 اور 51 چیلنج کی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آر اوز ڈی آر اوز بیورو کریسی سے لینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے معطل کیا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے انتخابی عمل رک گیا ہے، پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے ہائیکورٹ میں اپیل کی، پی ٹی آئی نے کہا کہ آر اوز ، ڈی آر اوز کی تقرری کالعدم قرار دی جائے، اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دے دیا، معذرت خواہ ہیں آپ کو تکلیف دی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج کے بینچ کے حوالے سے وضاحت کرنا چاہتا ہوں، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کےتحت اب بینچز تشکیل دیے جاتے ہیں ، میری خواہش تھی کہ موسٹ سینئرججز بینچ میں شامل ہوں ، میں نے موسٹ سینئر ججز کے نام بینچ کیلئے تجویز کیے تھے ، جسٹس اعجاز الااحسن مصروفیات کے باعث نہیں آ سکے، ہم نے جسٹس منصور علی شاہ کو پھر تکلیف دی۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ریٹرننگ افسران کے لیے پہلی ترجیح اپنے افسران ہیں، پی ٹی آئی نے کہا ہے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت شفاف الیکشن کرائے جائیں جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے؟ جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کاموقف ہے آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے،الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیر التوا مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کروانا چاہتے تھے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائیکورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں۔درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اسفسار کیا کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی، اب کیوں کی گئی؟ کیا لاہور ہائیکورٹ نے سندھ، کے پی اور بلوچستان کے آر اوز کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لیے تھے؟ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ڈی آر اوز 148 اور ریٹرننگ افسران 859 ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدلیہ کے افسران انتخابات نہ کروائیں، الیکشن کمیشن اور ایگزیکٹو بھی نہ کروائے تو کون کروائے؟ اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کروانا ہی مقصد نظر آتا ہے جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگراں حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کیے گئے تھے۔

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے کیا ہوتا ہے، کل کو وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ عدلیہ کے ذریعے الیکشن پر اعتماد نہیں، الیکشن کمیشن افسران اور ڈپٹی کمشنر بھی انتخابات نہ کروائیں تو کون کروائے گا؟ الیکشن کروانا کس کی آئینی ذمے داری ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جج صاحب کو کہہ دیں وہ خود الیکشن کروالیں، نجانے عدلیہ کیسے حکم جاری کر رہی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عمیر نیازی نے ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن کو درخواست دی؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو پر انتخابات کے حوالے سے اعتماد نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا یہ آرڈر دینے والے جج مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگراں حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کیے گئے تھے، عمیر نیازی کہتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل تو وہ کہیں گے ہمیں عدلیہ پر اعتماد نہیں، ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ نوٹیفکیشن معطل ہوا آپ نے تربیت کیوں روکی ہے، 7 دن کی تربیت ہوتی ہے ایک دن کی تربیت ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے انتخابات ڈی ریل کرنے سے روکا تھا، کون الیکشن کے راستے میں رکاوٹ ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ آج الیکشن شیڈول جاری ہونا تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاونت کیلئے نوٹس تھا لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے، مجھے اس کیس کے بارے معلوم نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل، کیا پنجاب کی حدود سے باہر حکم جاری کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ جوڈیشل مس کنڈکٹ نہیں ہے، سپریم کورٹ میں تو تحریک انصاف درخواست گزار تھی، کیا عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ درخواست آئی لگ بھی گئی، حکم امتناع دینے والا جج ہی لارجر بنچ کا سربراہ بن گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کوئی بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف ہے یہی ڈپٹی کمشنرز نظربندی کے احکامات جاری کرتے ہیں، درخواست گزار کا موقف ہے انہیں انتظامی افسران پر اعتماد نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل وہ کہیں گے عدلیہ پر بھی اعتماد نہیں ہے جس پر وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نےکہا کہ سات دن کی ٹریننگ تھی ایک دن کی ہوئی پھر ہائی کورٹ نے معاملہ لارجر بینچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے؟ ہائی کورٹ نے ٹریننگ دینے سے نہیں روکا تھا۔

عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ جس پر سجیل سواتی نے کہا کہ آج الیکشن شیڈیول جاری ہونا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تو ابھی تک الیکشن شیڈیول کیوں نہیں دیا گیا؟ الیکشن شیڈیول اور ٹریننگ الگ چیزیں ہیں، شیڈیول پیش کریں تیار تو کیا ہی ہوگا، کیا الیکشن شیڈیول آج جاری کرینگے؟ جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا کہ ٹریننگ کے بعد شیڈیول جاری کرینگے، چیف جسٹس نے کہا کہ شیڈیول کب جاری کرینگے؟ قانون کہاں کہتا ہے ٹریننگ سے الیکشن شیڈیول مشروط ہے؟

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے شیڈول طلب کیا اور کہا کہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے شیڈول کیوں جاری نہیں کیا؟ ہمیں شیڈول دکھایں؟ آٹھ فروری میں کتنے دن رہتے ہیں؟ جس پر وکیل الیکشن کمشن نے کہا کہ آج سے 55 دن رہتے ہیں، چیف جسٹس نےکہا کہ انتخابی پروگرام 54 دن کا ہونے کیلئے آج شیڈیول جاری ہونا لازمی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ ڈی آر اوز کی ضرورت کب ہے؟ جسٹس سردار طارق نےکہا کہ ٹریننگ بلاوجہ کیوں روکی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن بھی انتخابات نہیں چاہتا؟ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز کی معطلی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، ہائی کورٹ تو خود ہی نوٹیفکیشن معطل کر چکی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ عدالتیں نوٹیفکیشن معطل کریں تو متعلقہ ادارہ معطلی کا نوٹیفیکیشن نہیں جاری کرتا جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نےکہا کہ افسران کو الیکشن کمیشن نے حکم دینا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں