Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اردو مرکزبحرین کے زیراہتمام مشاعرہ ’’صوت الخلیج‘‘ کا انعقاد

بحرین میں اردوزبان وادب کی ترویج کے لیے فعال تنظیم اردومرکزبحرین کے زیراہتمام مشاعرہ ’’صوت الخلیج‘‘ کا انعقادکیا گیا۔

بحرین میں پچھلےچندبرسوں میں نوزائیدہ ادبی تنظیم “اردو مرکزبحرین” نے بہت کم عرصےمیں ادبی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنایا ہے۔

لاتعدادشعری نشستیں بین الاقوامی مشاعروں کےعلاوہ بین الخلیجی مشاعروں کےانعقاد نے  بحرین  کی ادبی فضاکوپاک وہندکےعلاوہ پورے خلیج میں معروف کیا ہے۔

اسی سلسلے کوآگے بڑھاتے ہوئے بحرین کے قومی دن کے پُرمسرت موقع پرمذکورہ تنظیم نے پاکستان کلب بحرین کے تعاون سے ایک ’’صوت  الخلیج مشاعرہ‘‘ کے عنوان سے بحرین کے معتبر  ومعروف اوربزرگ شاعرجناب رخسارناظم آبادی کی صدارت میں ایک پروقارتقریب کا اہتمام پاکستان کلب بحرین میں کیا جس میں سعودی عرب اورکویت کےشعراکومدعوکیا گیا۔

علاوہ ازیں بحرین کے شعرانےمشاعرے کے رنگ کو مزید نکھارا۔ تقریب کا آغازجناب قاری فدا  حسین نے اپنی خوبصورت آواز میں کلام پاک کی تلاوت سے کیا اورمدحتِ سرورَکونین پیش کی۔

نظامت کے فرائض اردومرکزبحرین کےسرپرست اعلیٰ جناب خرم اقبال عباسی نےادا کیے جبکہ مہمانِ خصوصی بحرین کے معروف بینکارجناب عزیزہاشمی تھے۔ کثیرتعداد میں حاضرین نے مشاعرے میں شرکت کرتے ہوئے شاعروں کو خوب داد سے نوازا۔

قارئینِ کے ادبی ذوق کی تسکین کے لیے مشاعرے میں شریک شاعروں کا چنندہ کلام پیشِ خدمت ہے۔

رخسار ناظم آبادی (صدرِ مشاعرہ)

جادو تھا اس لہجے میں

اتر گئے سب شیشے میں

ماضی بن کر مت ٹھہریں

مستقبل ہے چلنے میں

احمد عادل

تری آنکھیں بتاتی ہیں تجھےمجھ سے محبت ہے

مگر دل کی تسلی کو ذرا اظہار ہو جائے

میں گرد راہ تھا مگر اعجاز دیکھۓ

ہر کارواں کے ساتھ اڑا جا رہا تھا میں

ایک لمحے میں تھی پنہاں کئ  صدیاں عادل

واۓ قسمت وہی لمحہ نہیں لکھا میں نے

صابر امانی ( سعودیہ)

 ‏‎‫نہیں رہوگے تو  کچھ نبھانا نہیں پڑے گا

‏‎‫یہ سر کٹا لو کہ پھر اٹھانا نہیں پڑے گا

‏‎‫یہ چابیاں ہیں مرے خزانے کی پاس رکھ لے

‏‎‫مجھے دوبارہ اسے چھپانا نہیں پڑے گا

‏‎‫اسی گلی میں تمام لوگوں کے گھر بنیں گے

‏‎‫کسی کو ملنے کہیں پہ جانا نہیں پڑے گا

منصور محبوب (سعودیہ)

بوجھ ہو جن پہ خاندانوں کا

ایسے مزدور گھر نہیں آتے

نہیں آئیں گے وہ بلانے سے

بھائی میرے، شجر نہیں آتے

عماد بخاری (کویت)

تو اگر عشق مجھ سےُکر لیتی

تجھ کو بیتاب دیکھتا  رہتا

نیند سے اُٹھ گیا ہوں ورنہ میں

عمر بھر خواب دیکھتا رہتا

شاہد خیالوی ( سعودیہ)

ہم سے بزدل تو جدا ہوتے ہی مر جائیں گے

مسئلہ آپکا ہے ،آپ کدھر جائیں گے

تم کسی اور کے پہلو میں رہو گے آباد

ہم کسی اور کے پہلو میں بکھر جائیں گے

یہ لڑائی میاں دستار کی خاطر ہوئی ہے

اس لڑائی میں بڑے قیمتی سر جائیں گے

اقبال طارق

زمین خواب ہوئی آسمان خواب ہوا

وہ گھر خیال ہواوہ مکان خواب ہوا

جہاں کے لوگ محبت کااستعارہ تھے

جوپیارپیارتھااپناجہان خواب ہوا

یہ گرد گرد ہوائیں کہاں سے آئی ہیں

کہ مہر خواب ہوئی مہربان خواب ہوا

ریاض شاہد

گوندھ کر مٹی تجھے چاک پہ رکھا ہوگا

ہم نفس تو بھی اسی خاک سے اٹھا ہو گا

آسماں والے سے کیا شکوہ شکایت کرنا

جیسے اعمال ، نتیجہ بھی تو ویسا ہوگا

ہو بہو لگتا ہے تُو مجھ سا ہی ابنِ آدم

 یعنی تجھکو بھی تو جنت سے نکالا ہوگا

سعید سعدی

یہاں مرہم ہے ہر اس دل کا جو ہجرت سے گھائل ہے

لہو کا رنگ میرا سبز تھا اب سرخی مائل ہے

بڑے دل والے لوگوں کی یہ اک چھوٹی سی بستی ہے

بظاہر ایک صحرا ہے جو ہریالی کا قائل ہے

اسد اقبال

صرف اچھا ہوتا ہے کردار بس

یا تو پھر کردار ہوتا ہی نہیں

یہ خدا کی خاص نعمت ہے اسد

ہر کسی کو پیار ہوتا ہی نہیں

نعیم رضا مقبول

بازارِ زندگی سے گزرنا برا لگا

زنداں میں ایک شخص کا ہنسنا برا لگا

ناخن بڑھا کے مل رہے ہیں پیار دیکھیے

وہ جن کو میرے زخم کا بھرنا برا لگا

کاٹے گئے ہیں پر مرے اتنی سے بات پر

صیادِ شہر کو مرا اڑنا برا لگا

اویس رسول

ضمیروں کے بکنے کا موسم ہوا ہے

نقابیں اترنے کا موسم ہوا ہے

تماشا نہ دیکھو گریباں میں جھانکو

کہ عقدوں کے کھلنے کا موسم ہوا ہے

تماشا نہ دیکھو گریباں میں جھانکو

کہ عقدوں کے کھلنے کا موسم ہوا ہے

اس طرح ایک خوبصورت شام کا اختتام ایک پر تکلف عشائیے سے ہوا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version