سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ حلقہ بندیوں کے تنازعات سے زیادہ الیکشن ضروری ہیں۔
فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریر کیا، حکم نامے میں کہا گیا کہ انتخابات جمہوریت کا بنیادی جزو ہیں، ایک جج کا کردار محافظ کا ہوتا ہے، الیکشن شیڈول آنے کے بعد انتخابی عمل اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ حلقہ بندیوں کیخلاف درخواستوں پرسماعت کی تو انتخابی شیڈول متاثر ہوگا، اگرحلقہ بندیوں کیلئے درخواستیں سنیں تو مقدمہ بازی کا سیلاب امڈ آئے گا، اسی صورتحال میں انتخابی شیڈول متاثر ہوگا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ انتخابات کے انعقاد کیلئے گھڑی کی سوئی آگے بڑھ رہی ہے، اگراس وقت حلقہ بندی کا معاملہ دیکھا تولاکھوں سیاسی کارکنان اور ووٹرز کے بنیادی حقوق متاثر ہونگے، عام انتخابات کے انعقاد کو حلقہ بندیوں کیخلاف اعتراضات پر ترجیح دے رہے ہیں۔
