صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےکہا ہے کہ معیاری تعلیم ملکی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت مساجد کا تعلیم کے فروغ کے حوالے سے کردار پر اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت کو ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسلام آباد میں تعلیم سے محروم 70ہزار سے زائد بچوں کا اسکولوں میں اندراج کیا گیا ، ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام ماڈل 24 سے 30 مہینوں میں 5 سال کی پرائمری تعلیم دیتا ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پروگرام میں اسکول سے باہر بچوں کو باقاعدہ اسکولوں میں داخل کیا جاتا ہے، تعلیم سے محروم بڑی عمر کے بچے پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ اے ایل پی ماڈل لچکدار، مرکوز اور کم لاگت کا ماڈل ہے، ماڈل کو کمیونٹی کی فراہم کردہ جگہ، مدارس، مساجد اور اسکولوں کی دوسری شفٹ میں اپنایاجا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے اجلاس میں کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
اجلاس میں مساجد کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے ایک پالیسی پیپرتیار کرنے پر اتفاق ہوا، اتفاق رائے سے تیارکردہ پالیسی پیپر وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ معیاری تعلیم ملکی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے، پاکستان میں تقریبا ً 2 کروڑ 80 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، تعلیم دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ مساجد کو خواندگی اور تعلیمی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، بچوں کو تعلیم کی فراہمی کیلئے مساجد کے ساتھ مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ، صوبائی وزیر تعلیم سندھ اور وزیر تعلیم آزاد کشمیر ،صوبائی سیکرٹریز تعلیم ،محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے نمائندوں نے شرکت کی۔



















