مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے، امیدواران کاغذات نامذگی جمع کراچکے ہے اور اس وقت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال چل رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوام سے ہمارا تعلق نظریات کی بنیاد پر ہے، جے یو آئی بڑی سیاسی مذہبی جماعت کے طورپر حصہ لے گی، یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس ملک لے لئے لاکھوں قربانیاں دی گئیں، ہم پاکستان میں قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کا نظام چاہتے ہیں۔
انہوں نے یہ کبھی کہا کہ 9 الیون کے بعد پاکستان ایک سیکولر اسٹیٹ کے طور پر دنیا میں معترف ہو رہا ہے، ہم ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور ہم بھارت سے کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ کچھ گلے شکوے ہوجاتے ہیں مگر ہم بھائیوں جیسے تعلقات چاہتے ہیں، امارت اسلامیہ افغانستان نے مجھے دورہ افغانستان کی دعوت دی ہے، الیکشن کے بعد افغانستان جاؤں گا اور اگر انتخابی مہم کے دوران میرا کوئی کارکن زخمی ہوا تو اس کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا استحکام ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور اس وقت ملک میں دوصوبے بدامنی کی زد میں ہیں، ہم مسلسل الیکشن بھی مانگ رہے ہیں اور آزادانہ ماحول بھی مانگ رہے ہیں،تمام امیدواروں کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ نشان کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ پورے ملک کا فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟معیشت تباہ کرنے والوں کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار صرف اپنے صوبہ تک ہے۔



















