Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

الیکشن کمیشن نے پرنٹ ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری ،  سیکورٹی، عدلیہ اور دیگر قومی  ادادوں کی ازادی اور سالیمت کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا۔

الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا، کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہوگا جو کسی  امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد  پر ذاتی حملہ ہو، خلاف ورزی  پر قانونی کاروائی ہو گی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی، وزارت اطلاعات کا  سائیبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا،  امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا-

ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا کہ پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا  سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے۔

اس کے علاوہ قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی، ووٹرز کے لیے آگاہی پروگرام چلائے جائیں گے، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی، الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو۔

17 نکاتی ضابطہ اخلاق کے مطابق صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائے گی، میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے-

الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا، نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں، جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا امیڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں