Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پے پال کے ساتھ معاہدہ، صدر آئی سی سی آئی احسن بختاوری کا اہم بیان

پے پال کے ساتھ معاہدے پر صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس احسن بختاوری کا اہم بیان سامنے آگیا۔

اپنے بیان میں صدر آئی سی سی آئی احسن بختاوری نے کہا کہ پاکستان میں فری لانسنگ کے فروغ کیلئے پے پال کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ خوش آئند ہے، فری لانسنگ اور ای کامرس پاکستان کی ابھرتی ہوئی مارکیٹس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم اب تک ان عالمی اداروں کو ملک میں لانے میں کامیاب نہیں ہوئے، پے پال کے ذریعے ترسیلات زر کا حصول آسان ،روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

احسن بختاوری کا کہنا تھا کہ پاکستان 25 کروڑ آبادی کا بڑا ملک ہے جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، ہماری یوتھ میں بڑا پوٹینشل ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انکی صلاحیتوں کو نکھارا اور مواقع فراہم کئے جائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ٹیکنالوجی اور سی کامرس کی دیگر بڑی کمپنیوں کو بھی پاکستان لانے کی کوشش کرے، عالمی کمپنیوں کے پاکستان آنے سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔

صدر آئی سی سی آئی احسن بختاوری نے مطالبہ کیا کہ حکومت معاشی بہتری کیلئے جاری پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے۔

پاکستان کا ’پے پال‘ سے معاہدہ طے پا گیا

ملک بھر میں فری لانسنگ کے ذریعے رقم کمانے والوں کو اب رقم منگوانے کے لیے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت پاکستان اور عالمی سطح پر آن لائن ادائیگیوں کے نظام کو چلانے والی کمپنی ’پے پال‘ کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے۔

پے پال اکاؤنٹ کے خواہشمند افراد کیلئے حکومت نے بڑا اقدم اٹھا لیا، اکاؤنٹ کیسے بنے گا؟

پے پال اکاؤنٹ کے خواہشمند افراد کیلئے حکومت نے بڑا اقدم اٹھا لیا ہے، نگراں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر عمر سیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے نجی شعبے کی کمپنیوں کو خلا میں کم مدار میں سیٹلائٹ استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لیے قومی خلائی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن اگلے ہفتے کئی ڈیجیٹل اقدامات شروع کرنے کے لیے تیار ہے جس میں پے پال کے ذریعے ترسیلات زر کو چینلائز کرنا، صارفین کو آسان اقساط پر اسمارٹ فونز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آئی ٹی سے فارغ التحصیل افراد کے لیے معیاری معیار کا ٹیسٹ بھی شامل ہے تاکہ پاکستان کو ٹیک ڈیسٹینیشن بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پے پال پاکستان نہیں آ رہا لیکن ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ترسیلات زر کو تیسرے فریق کے ذریعے پے پال سے چینلائز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ افتتاحی تقریب 11 جنوری کو مقرر ہے۔

ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ان کی وزارت ٹیلی کام کمپنیوں کے دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے 12 جنوری 2024 سے ایک اور اقدام شروع کرے گی جس کے تحت صارفین کو جدید ترین ماڈل فون آسان قسطوں پر ملیں گے۔

متعلقہ خبریں