سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔
تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے بیرسٹرگوہرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہیں؟ بیرسٹر گوہرنے جواب دیا کہ میں میں اس مقدمے میں وکیل ہوں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اس کیس میں تو وکیل حامد خان ہیں، حامد خان سنیئر وکیل ہیں ان کا کیا مؤقف ہے۔ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ہم درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اس کیس میں علی ظفر بھی وکیل ہیں انہیں کوئی اعتراض تو نہیں، بیرسٹرگوہرنے جواب دیا کہ وکیل علی ظفر کو بھی کوئی اعتراض نہیں، اس پرچیف جسٹس پاکستان نے وکیل حامد خان سے کہا کہ حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں۔
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں ہے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ آپ کھڑے نہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟
حامد خان نے جواب دیا کہ نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں، عدالت نے کہا کہ کل کو کوئی آکر یہ دعویٰ کردے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں کی تھی تو پھر؟ علی ظفر کہاں ہیں انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟
وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ نہیں انہیں اعتراض نہیں ، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ ہیں۔
