اردو کے معروف بھارتی شاعر منور رانا 71 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف بھارتی شاعر منور رانا کی صاحبزادی سمعیہ رانا نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ شب ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا جس پر انہیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔
منور رانا گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے اور وہ سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں زیر علاج تھے، وہ طویل عرصے تک گردے اور دل کے امراض میں بھی مبتلا رہے تھے، اس کے علاوہ وہ گلے کے کینسر میں بھی مبتلا تھے۔
منور رانا کی بیٹی سمیعہ رانا کا کہنا تھا کہ والد کا انتقال گزشتہ شب ہوا اور ان کی تدفین آج کی جائے گی۔ مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ، بیٹے اور 4 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
منور رانا 26 نومبر 1952 کو بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر رائے بیریلی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے انہوں نے اردو ادب، شاعری اور غزلوں کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان بنائی جب کہ ’’ماں‘‘ پر بنائی گئی نظم نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا اور اس نظم کا شمار ان کی مشہور نظموں میں ہوتا ہے۔
Pained by the passing away of Shri Munawwar Rana Ji. He made rich contributions to Urdu literature and poetry. Condolences to his family and admirers. May his soul rest in peace.
— Narendra Modi (@narendramodi) January 15, 2024
علاوہ ازیں منور رانا کو 2014 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا، تاہم انہوں نے تقریباً ایک سال بعد بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر یہ ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی منور رانا کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’’ منور رانا جی کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، انہوں نے اردو ادب اور شاعری میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
