ایران کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی پر پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پاکستان سے بھی ایرانی سفیر کو جانے کا کہہ دیا ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر اس وقت ایران کے دورے پر ہیں اور انہیں ایران سے فی الحال واپس نہ آنے کا کہ دیا ہے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستانی حکام نے ایران کے تمام دورے ملتوی کردیئے، پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی دوروں کو بھی روکا جارہا ہے جبکہ پاکستان نے اپنے فیصلے سے ایرانی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کی تمام ذمہ دوری ایران پر عائد ہوتی ہے، ایران کی طرف سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، ایران کا اقدام اقوام متحدہ چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا مزیدکہنا تھا کہ یہ غیر قانونی عمل مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، ایران کے اقدام کا کوئی جواز نہیں ہے، پاکستان اس غیرقانونی اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، نتائج کی ذمہ داری پوری طرح ایران پر عائد ہوگی۔
ایران کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کی حقیقت
ایران کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کی حقیقت سامنے آگئی،ایران کی طرف سے 16 جنوری کو تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی بِلا اشتعال فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت ہے جس کو چھپانے کے لئے جیش العدل کی فیک اور جھوٹی اسٹیٹمنٹس کا سہارا لیا گیا۔
حملے کے فوری بعد آئی آر جی سی نے اِس حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے جیش العدل سے منسوب ایک وٹس ایپ بیان ایشو کیا تاکہ یہ بیانیہ بنایا جا سکے کہ یہ حملہ واقع جیش العدل کے کیمپ پر ہوا ہے، لیکن پاکستان کا ری ایکشن دیکھ کر ایران کو اپنے اِس غلط اور بے تکی حرکت کا اندازہ ہو گیا۔
جیش العدل جسے آئی آر جی سی خود چلا رہی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اِس مسئلے سے جان چھڑائی جائے اسی لئے جیش العدل سے دوبارہ جھوٹا بیان دلوایا گیا کہ یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کر پاکستان چلے گئے جبکہ اصل میں نشانہ سستان، ایران کے اندر ہی واقع جیش العدل کے اپنے کیمپ تھے۔
یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم خُود آئی آر جی سی کی طرف سے فائر کیے جانے والے راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے رہی ہے، اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ جیش العدل سے منسوب اکاؤنٹس آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس خود چلا رہی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپس ایران میں موجود ہیں، کلبوشن یادیو بھی ایران سے آپریٹ کرتا رہا ہے، ایران کا یہ خیال ہے کہ پاکستان اس واقع کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اُس کی بہت بڑی بھول ہے۔
شہباز شریف کی ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت
دوسری جانب سابق وزیر اعظم و صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی ہے۔
صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر حیران ہوں، یہ میزائل حملہ دونوں ممالک کی دوستی کے جذبہ کے برخلاف ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہ حملہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے، حملہ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات کو پس پشت ڈال کر کیا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ مذاکرات اور بامعنی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔
سابق وزیر اعظم و صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا کہ حملے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہوں۔
پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامورکی طلبی
وزارت خارجہ نے پاکستانی فضائی حدود میں بلا اشتعال خلاف ورزی پرایرانی ناظم الامورکو طلب کرلیا۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہو ئیں، پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اور بھی تشویشناک ہے کہ یہ غیر قانونی عمل پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز کے موجود ہونے کے باوجود ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں متعلقہ سینئر عہدیدار کے پاس شدید احتجاج درج کرایا جا چکا ہے۔
دفترخارجہ کے مطابق ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں بلایا گیا ہے تاکہ وہ پاکستان کی خودمختاری کی اس صریح خلاف ورزی کی شدید مذمت کریں اور اس کے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی یک طرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔



















