سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ’بلا‘ ہوتا تو ’شیر‘ بلے کا مقابلہ کرتا۔
تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی کارروائی براہ راست نشر ہوئی وہاں ثبوت دیتے، پی ٹی آئی وکلا عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرتے، بلا چھینا گیا ہے تو ان سے پوچھیں انٹرا پارٹی الیکشن کیوں ٹھیک نہیں کیا، اگر بلا ہوتا تو شیر بلے کا مقابلہ کرتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ شیر تو ہمارا 2018 میں چلا گیا تھا، نواز شریف کی سوچ ہے مشاورت سے پاکستان کو آگے لیکر چلنا ہے، بلا کیا میں نے یا نواز شریف نے لیا ہے؟ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمالیہ جیسی سوچ اور وژن ہونا چاہیے اور ہمارے لیڈر کے پاس ملک کیلئے ہمالیہ جیسی سوچ اور وژن ہے، ترقی کے لیے شرط ہے کہ پاکستان کی سمت درست ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ زراعت ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی، جو ممالک ہم سے سیکھتے تھے وہ زراعت میں ہم سے آگے چلے گئے، معیشت آج پاکستان کے اندر سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کے پاس تیل ہے نہ گیس، اربوں ڈالر خرچ کر کے تیل اور گیس امپورٹ کرتے ہیں، ملک کی ضروریات کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا، ریاست کے لیے سیاست قربان کی جس پر کوئی پشیمانی نہیں، ریاست رہے گی تو سیاست بھی دوبارہ آجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی عدالت میں پوچھا گیا کہ بطور وزیراعظم کیا کیا تو جواب دوں گا پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، مرنے کے بعد اللہ کو بتاؤں گا کہ بطور وزیراعظم میں نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ایک سازش ہوئی پھر مہنگائی کا دور آیا آئی ایم ایف سے معاہدے کو توڑا گیا، 16 ماہ کی اتحادی حکومت میں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ملک کو دیوالیہ سے بچایا میری تنہا نہیں 13 جماعتوں کی کاوش تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک دیوالیہ ہو جاتا تو پیٹرول اور عوام کو ایک وقت کی روٹی نہ مل پاتی، پاکستان دیوالیہ ہو جاتا تو عوام سڑکوں پر ہوتے ہر طرف تباہی ہوتی، ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ہمیں نفرتیں ختم کرنا ہوں گی، 16 ماہ کی اتحادی حکومت میں ہم نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا، مہنگائی کا اعتراف کرتا ہوں لیکن کیا ہم یہ جان بوجھ کر لائے تھے؟
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا تحفہ پی ٹی آئی حکومت سے ورثے میں ملا تھا، یہ وہ مسائل ہیں جو ایک دو سال میں ختم نہیں ہوں گے، ملک کی ترقی میں ایس آئی ایف سی بہترین پلیٹ فارم ہے، کبھی نہیں کہا میں ان کو رلاؤں گا، ہمیں دلوں کو جوڑنا ہے ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، ہمارے دور میں ترقی کی شرح 6 فیصد سے آگے چلی گئی تھی، یہ الیکشن پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے، ن لیگ کے منشور سے نواز شریف خود چند دن میں آگاہ کریں گے، 8 فروری کو عوام ملک کی خوشحالی کے لیے ووٹ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں 25 کروڑ عوام حق رائے دہی استعمال کریں گے، مسلم لیگ ن نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، عوام سوجھ بوجھ کےساتھ ماضی میں جھانک کر مستقبل کا نقشہ بنائیں، نوازشریف مریم نواز حمزہ شہباز مل کر انتخابی مہم چلائیں گے، ہمیں موقع ملا تو ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو گا، ہم نے ورکرز اور نشست جیتنے والوں کو بھی ٹکٹ دیئے ہیں، نواز شریف کی محنت سے پاکستان ترقی کی طرف گامزن تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو نوجوان نسل ہی ترقی دلا سکتے ہیں، نوجوانوں کو جدید علوم سے ہمکنار کریں گے تو ملک ترقی کرے گا، اسکول کی سطح پر بھی ووکیشنل ٹریننگ دلوا کر اسکلز کو بڑھانا ہو گا، پاکستان میں درجنوں جدید کالجز اور یونیورسٹیز بنانا ہوں گی، 2017 اور 2018 کے اوائل میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی تھی، نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ مل کر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار جیسے مہرے کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا، تختہ نہ الٹا جاتا تو پاکستان آج ترقی کی منازل طے کر چکا ہوتا، پاکستان کے سفارتی تعلقات کو بری طرح مجروح کیا گیا، پاکستانی معاشرے میں زہر گھولا گیا اور تقسیم در تقسیم کر دی گئی۔



















