Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر حملہ، ایران کی بڑی بھول

بظاہر تو ایران اور پاکستان دوست بھی ہیں اور پھر دونوں نے ایک دوسرے پر برادر اسلامی ملک کا ٹھپہ بھی لگا رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ایران میں امام خمینی کے انقلاب سے پہلے مشرق وسطی کا تھانیدار بننے کے زعم میں مبتلا  شاہ رضا شاہ پہلوی کی چھتر چھاپہ میں کئی بار پاک ایران تعلقات کشیدہ ہوئے۔

پہلوی بادشاہت کے خاتمے کے بعد جب ایران نے اپنا انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان بتدریج ابھرتے ہوئے سعودی عرب کے قریب ہوتا چلا گیا۔

پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے متوازن تعلقات رکھے جائیں،عالم اسلام کا لیڈر بننے کے چکر میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم تو ایران اور سعودی عرب کو ثالثی کی پیشکش بھی کر بیٹھے تھے۔اس دوران یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بعض تنظیمیں ایران پر فرقہ واریت کو فروغ دینے کے الزام لگاتی رہی ہیں لیکن  ان الزامات کے ساتھ حقیقت یہ بھی یے کہ کالعدم نام نہاد بلوچ قوم پرست بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے ایران کی سرزمین پر پھل پھول رہے ہیں اور تو اور بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر کلبوشن یادیو بھی ایران میں رہ کر پاکستان کی سرزمین پر منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتا رہا۔ایران کی جانب سے پاکستان  کی سرحدی خلاف ورزی  کی حقیقت کی طرف آتے ہیں۔ایران کی طرف سے  16 جنوری کو تمام  بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے  ہُوئے پاکستان کی  بِلا اشتعال فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے  معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا  ثبوت ہے جسکو چھپانے کے لئے جیش العدل کی فیک اور جھوٹی اسٹیٹمنٹس کا سہارا لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے فوری  بعد آئی آر جی سی یعنی پاسداران انقلاب نے اِس حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئیے جیش العدل سے منسوب ایک  وٹس ایپ بیان  ایشو

کیا تاکہ یہ  بیانیہ بنایا جا سکے کے یہ حملہ واقعی جیش  العدل کے کیمپ پر ہوا ہے۔پاکستان کا شدید ردعمل دیکھ کر ایران کو اپنے اِس غلط اور بے تکی حرکت کا اندازہ ہو گیا ہے۔جیش العدل جسے آئی آر جی سی خود چلا رہی ہے  اور اب وہ چاہتی ہے کہ جھوٹ کی گرد اڑا کر کسی طرح اِس مسئلے سے جان چھڑائی جائے۔اِسی لئیے  جیش العدل سے منسوب دوبارہ جھوٹا بیان دلوایا گیا کے یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کر پاکستان چلے گئے  جبکہ اصل میں نشانہ سستان، ایران کے اندر ہی  واقع جیش العدل کے اپنے کیمپ  تھے۔یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم خُود آئی آر جی سی کی طرف سے  فائر کئے جانے والے راکٹس  غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے رہی ہے۔اِس بھونڈی حرکت  سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نام نہاد جیش العدل سے منسوب اکاؤنٹس آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس خود چلا رہی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپس ایران میں موجود ہیں، بھارت کا دہشت گرد کمانڈر کلبوشن یادیو بھی ایران سے ہی آپریٹ کرتا رہا ہے۔ایران رجیم یا ڈیپ اسٹیٹ کا یہ خیال کہ پاکستان اِس واقع کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اُسکی بہت بڑی بھول ہے۔پاکستان نے دفتر خارجہ کے ذریعے شدید ردعمل ظاہر،سفیر واپس بلا لیا اور تمام ہائی لیول دورے منسوخ کئے۔ پاکستان کی جانب سے ایرانی رجیم کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ سفارتی طور پر غلطی سدھارے۔پاکستان کے دفاعی ذرائع کو

اِس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ اِس واقعہ کی ساری ذمہ داری ایرانی رجیم، پاسداران انقلاب اور   ایرانی انٹیلیجینس پر عائد ہوتی ہے۔

افسوس ناک طور پر اس المناک واقعے کی مذمت کے بجائے ایک مخصوص سیاسی جماعت اپنے مذموم عزائم کی خاطر اس واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش میں  ہمیشہ کی طرح مصروف ہے۔ایران کے حملے کی خلاف ورزی کے بعد مخصوص سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے انڈین اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر من گھڑت پروپیگنڈہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی خاطر یکجان ہو کر انتشار کی سیاست کے بجائے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو ترجیح دی جائے۔

متعلقہ خبریں