محکمہ انسداد دہشت گردی کے سینئر افسر نے ایران سے متعلق اہم انکشافات کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی کے سینئر افسر راجہ عمر نے کچھ اہم انکشافات کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران ملک دشمن اداروں دہشتگردوں اور علیحدگی پسند تنظمیوں کا گڑھ بن گیا، ایران میں بھارتی ایجنسی راء کے پاکستانی ایجنٹ موجود ہیں، پاکستان دشمن بی ایل اے اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند تنظمیں بھی موجود ہیں، پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشتگرد بھی ایران میں مفروری کاٹ رہے ہیں۔
راجہ عمر نے کہا کہ ایران میں کئی دہشتگرد پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میں ملوث ہیں، ایک اسلامی ملک کے سفارت کار جن کو کراچی میں قتل کیا گیا تھا، قتل میں ملوث دہشت گرد 12 سال سے ایران میں موجود ہیں، چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا تعلق بھی ایران سے تھا، حملہ آوروں کا فون پر آخری رابطہ 2 ممالک میں موجود ان کے ساتھیوں سے ہوا، رابطہ ہونے والے دہشتگردوں میں ایک کا تعلق ایران سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینچ کے حملہ آور تقریبا” دو سال تک ایران میں روپوش تھے، دو سال تک ٹریننگ لینے کے بعد وہاں سے آکر کراچی آکر حملہ کیا تھا، کراچی یونیورسٹی خودکش حملے میں ملوث گرفتار ملزم داد بخش پاکستان سے ایران گیا تھا، ملزم ایران کی انیٹیلیجنس کی مدد سے افغانستان گیا اور بشیر زیب سے ملاقات کی تھی، کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ٹیررزم فنڈنگ کے براہ راست تانے بانے ایران سے ملتے ہیں۔



















