Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کی طرف دیکھنے والے کسی بھی ملک کو ایسے ہی جواب دیا جائے گا، آصف زرداری

سابق صدر آصف زرداری کوئی بھی ملک پاکستان کی طرف دیکھے گا تو اسی طرح مؤثر جواب دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایران میں بھرپور جوابی کارروائی پر ردعمل میں کہا ہے کہ کوئی بھی ملک پاکستان کی طرف دیکھے گا تو اسی طرح مؤثر جواب دیا جائے گا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ایک امن چاہنے والا ملک ہے لیکن پاکستان پر حملہ کرنے والے اب پہلے سو دفعہ سوچیں گے اور کوئی بھی ملک پاکستان کی طرف دیکھے گا تو اسی طرح مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور ہماری افواج بہت اچھے طریقے سے ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں ، ہم نے ہمیشہ دنیا میں امن کی بات کی ہے اور ہمیشہ دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے کام کیا ہے جب کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک سے بہترین تعلقات چاہتے ہیں لیکن صرف برابری کی بنیاد پر۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں 2 معصوم بچے جاں بحق اور 3 بچیاں زخمی ہو گئی تھیں جس پر دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان نے ایران کی جانب سے حملے کے ردعمل میں ایرانی سفیر کو بھی ملک بدر کر دیا تھا اور ایران میں تعینات سفیر مسعود ٹیپو کو وطن واپس بلا لیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تمام اعلیٰ سطحی تبادلوں کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں آپریشن مرگ بر ، سرمچار کے ذریعے ایران کو جواب دے دیا۔ پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان میں دہشتگردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران کے اندرموجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثرحملےکرکے انھیں تباہ کردیا۔ یہ دہشت گرد پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آرکے مطابق پاکستان نے ایران میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی دہشت گرد تنظیموں کے زیراستعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، ہلاک ہونے والوں میں دوست عرف چیئرمین، بجرعرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغرعرف بشام اوروزیرعرف وزی شامل تھے۔

متعلقہ خبریں