Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی: دہشت گرد عناصر کا ایران میں موجود شدت پسندوں سے رابطے کا انکشاف

کراچی میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کا ایران میں موجود شدت پسندوں سے رابطے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سربراہ راجا عمر خطاب نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی میں ملوث شدت پسندوں کے تانے بانے ایران میں موجود دہشت گرد جماعتوں سے ملتے ہیں، جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را آپریٹ کرتی ہے۔

راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ ماضی میں گرفتار دہشت گردوں کے تانے بانے ایران میں موجود پاکستان دشمن دہشت گرد جماعتوں سے ملتے ہیں اور ایران میں پاکستان دشمن پسند بی ایل اے، بلوچ علیحدگی پسند جماعت، لیاری گینگ وار اور را کے ایجنٹ موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی میں پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد بھی اس وقت ایران میں روپوش ہیں۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں ایک اسلامی ملک کے سفارتکار کے قتل میں ملوث دہشت گرد 12سال سے ایران میں موجود ہیں جب کہ چینی قونصلیٹ پر حملے میں مارے گئے دہشت گردوں سے برآمد موبائل فونز کی چھان بین کے دوران انکشاف ہوا کہ دہشت گردوں نے آخری رابطہ ایران سمیت دو ممالک میں موجود اپنے ساتھیوں سے کیا تھا۔

راجا عمر خطاب نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینچ پر حملے میں ملوث دہشت گرد 2 سال تک ایران میں روپوش تھے اور وہیں سے حملے کے لیے آئے تھے جب کہ جامعہ کراچی میں خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد داد بخش پاکستان سے ایران میں روپوش ہوا اور اس نے ایرانی انیٹیلی جینس کی مدد سے افغانستان میں بشیر زیب سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی فنڈنگ کے براہ راست تانے بانے ایران میں موجود پاکستان دشمنوں سے ملتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں حملے کے نتیجے میں 2 معصوم بچے جاں بحق اور 3 بچیاں زخمی ہو گئی تھیں جس پر پاکستان نے ایران کی جانب سے حملے کے ردعمل میں ایرانی سفیر کو بھی ملک بدر کر دیا تھا اور ایران میں تعینات سفیر مسعود ٹیپو کو وطن واپس بلا لیا۔

بعد ازاں پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں آپریشن مرگ بر ، سرمچار کے ذریعے ایران کو جواب دے دیا۔ پاکستان نے ایران کے صوبے سیستان میں دہشتگردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں