Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

“مرگ بر سرمچار”

پاکستان نے بالآخر مشکل فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو اس کے کئے کا مزہ چکھا دیا ۔ ایران کی بھونڈی اور بے تکی حرکت کے جواب میں پاکستان کی جانب سے 18 جنوری 2024 کی صبح ہونے والا آپریشن “مرگ بر سرمچار” ہمیشہ کے لئے تاریخ کے اوراق میں امر ہو گیا۔

ایک طرف تو پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرتا اور دوسرا تہران میں موجود رجیم کو سبق مل گیا کہ پاکستان عراق، شام یا لبنان نہیں کہ جب جی چاہا میزائل داغ دیا یا جب دل چاہا پراکسی یعنی بھاڑے کے ٹٹووں سے کچھ بھی کروا لیا۔پاکستان کی جوابی کارروائی کے حوالے سے صبح سویرے ہی اطلاعات ملنا شروع ہو گئیں تھیں اور پاکستان میں دفتر خارجہ نے باضابطہ طور پر اس کا اعلان کیا جبکہ ترجمان افواج پاکستان کی جانب سے بعد ازاں تکنیکی پہلوؤں کی تفصیلات جاری کی گئیں۔آپریشن مرگ بر سرمچار کا اعلان کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ


پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی ہے اورصبح سویرے ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ خود کو سرمچار کہلانے والی پاکستانی نژاد دہشت گردوں کے ایرانی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔پاکستان نے دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد پر مبنی کئی ڈوزئیرز ایران کے ساتھ شئیر کئے۔پاکستان کے اظہار تشویش کے باوجود سرمچاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،ایرانی حکومت کی جانب سے


کارروائی نہ ہونے کے باعث سرمچار معصوم پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے۔
آپریشن مرگ بر سرمچار، پاکستان نے قابل بھروسہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا جو قومی سلامتی کو تمام خطرات سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔انتہائی پیچیدہ آپریشن پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کا اظہار ہے اور کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔


یقینی طور پاکستان کے ذمہ دار یا عام الفاظ میں مسلح افواج بخوبی جانتی تھیں کہ پنجگور پر حملے میں ایرانی رجیم،نام نہاد پاسداران انقلاب اور ایرانی انٹیلیجینس کا ہاتھ ہے جنہوں نے پورے خطے میں آگ بھڑکا کر خود کو محفوظ رکھنے کی پالیسی کے تحت پاکستان کو بھی شام یا عراق سمجھنے کی غلطی کی ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ آپریشن مرگ بر سرمچار کے دوران کلر ڈرونز،راکٹس،لائٹرنگ میونیشن اور اسٹینڈ آف ویپنز سمیت جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ نشانہ بنائے گئے ٹھکانے بدنام زمانہ دہشت گرد استعمال کر رہے تھے،دہشتگردوں میں دوست عرف چیئرمین، بجر عرف سوغات، ساحل عرف شفق، اصغر عرف بشام اور وزیر عرف وزی شامل تھے۔ دہشت گردوں کے نام بتا کر پاکستان نے ثابت کر دیا یے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس معلومات بلکل درست تھیں ۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کارروائی میں ایک طرف تو فتح ون راکٹس یا چین کے ملٹی پل لانچ راکٹ اے ون ہنڈرڈ استعمال کئے گئے تو ساتھ ہی پاکستان نے پہلی بار کلر ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشن کے پہلی بار استعمال کا بھی انکشاف کیا۔ کلر ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشن دونوں پاکستان کے جدید ترین ہتھیار ہیں جو ترکی کے اشتراک سے این اے ایس ٹی پی میں تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ائیرفورس کے جے ایف سیونٹین تھنڈرز کے ساتھ دوران آپریشن ایسکورٹ کے لئے نہ صرف جے ٹین سی بلکہ ایف سکسٹین سی جیٹس بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں