آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2 فیصد رہنے کا امکان ہے، حکومتی زرمبادلہ ذخائر 4.5 سے بڑھ کر 8.2 ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جولائی 2023 سے پاکستان کی معیشت درست سمت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے معاشی بہتری کے لیے جولائی تا ستمبر تمام اہداف حاصل کیے، پاکستان میں توانائی کی اصلاحات کی ضرورت ہے، پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، پاکستان میں زرعی شعبہ قدرے بہتر ہے، زرعی شعبہ 5.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ پاکستان میں صنعتی شعبہ مشکلات کا شکار ہے، صنعتی شعبہ کی شرح نمو محض 2.5 فیصد رہے، پاکستان نے ڈالرکی اسمگلنگ کی روک تھام بہترکی ہے، پاکستانی سرحدوں سے ڈالرکی اسمگلنگ پر کنٹرول کیا گیا، مئی 2023 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 36 فیصد تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اکتوبر2023 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 26.8 تھی، رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 8 فیصد رہنے کی توقع ہے، گذشتہ مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 8.5 فیصد تھی، رواں مالی سال محصولات اورگرانٹس جی ڈی پی کے12.5 فیصد رہ سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ مالی سال محصولات اور گرانٹس جی ڈی پی کے11.5 فیصد تھیں، رواں مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، گذشتہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.7 فیصد تھا، رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے1.6 فیصد تک رہ سکتاہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گذشتہ مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے0.7 فیصد تھا، نومبر 2023 میں مہنگائی بڑھ کر 29.2 فیصد کو پہنچی، پاکستان میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھنا خوش آئند ہے، ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھ سے خسارے پر کنٹرول ہوا۔



















