Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اب معلومات دینا ہر ادارے پر لازم ہے، کوئی وجہ نہیں پوچھ سکتا، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا ہے کہ اب معلومات دینا ہرادارے پرلازم ہے، کوئی وجہ نہیں پوچھ سکتا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا معلومات ہونگی تو ہی احتساب کا عمل شروع ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے اسلام آباد میں پاکستان بار، سپریم کورٹ بار اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے تعاون سے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معلومات بہت بڑا ہتھیار ہیں، سب سے اچھی جراثم کش سورج کی روشنی ہے،  دھوپ اور روشنی دکھاتے چلیں تو معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئین کی ایک شق 19 ہے جس میں آزادی صحافت کا بالخصوص ذکر ہے،  دوسری شق 19 اے ہے جو معلومات تک رسائی کا بنیادی حق دیتی ہے، شہری مختیار احمد نے معلومات کیلئے انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا، تکنیکی بنیادوں پر رجسٹرارسپریم کورٹ ہائی کورٹ میں مقدمہ جیت گئےاورمعلومات فراہم نہیں کیں، سپریم کورٹ نے افسران اور ملازمین کی تعداد پر مبنی معلومات خود فراہم کیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ قانونی چارہ جوئی کیلئے شہری مختار احمد کے تمام اخراجات بھی انہیں واپس کرنے کا حکم دیا گیا، پہلے پوچھا جاتا تھا کہ معلومات کیوں درکار ہیں، اب معلومات دینا ہرادارے پرلازم ہے، کوئی وجہ نہیں پوچھ سکتا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا معلومات ہونگی تو ہی احتساب کا عمل شروع ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپنے پہلے ہی دن فل کورٹ میں کارروائی براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، کوشش ہوتی ہے اہم کیسز کو براہ راست نشر کیا جائے تاکہ لوگ غلط فہمی پر کوئی الزام نہ لگائیں، لازمی نہیں شہری ہم سے اتفاق نہ کریں، بجائے اس کے کہ شہری ہم سے پوچھیں ہم نے خود سہ ماہی رپورٹ پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، سترہ ستمبر سے سولہ دسمبر تک کی سہ ماہی رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعسیٰی نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا اور کتنے نئے دائر ہوئے، تین ماہ میں پانچ ہزارسے زائد مقدمات نمٹائے گئے ہیں، رپورٹ میں اہم فیصلوں کے لنک بھی موجود ہیں، رواں ہفتے 504 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 326 نئے دائر ہوئے، بلا مانگے معلومات فراہم کرنے سے شفافیت آتی ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں، سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی ایک یادگار بھی بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے خطاب میں کہا کہ مانومنٹ تصاویربنانے کیلئے عوام کیلئے کھلا ہوگا، پہلے لوگ سپریم کورٹ کے سامنے سڑک پر کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے تھے، کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کیلئے سات ایکڑ اراضی ہائیکورٹ کے پاس مختص کی گئی تھی، سیکریٹری ہائوسنگ کو کہا کہ 36 وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کو اس مختص زمین پر منتقل کیا جائے، تمام وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے۔

انھوں نے میڈیا ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں نامزدگیوں کیلئے کمیٹی کام کر رہی ہے، کمیٹی جلد ہی اپنا کام مکمل کرلےگی، ہدف ایک ہی ہے کہ اچھے ججزتعینات کیے جائیں جو قانون کو اچھی طرح سمجھتے ہوں، کئی یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ کا ممبرہوتا ہے، ملک کی تقدیر بدلنے کا یہی طریقہ ہے کہ تعلیمی اداروں کا معیار اچھا کیا جائے، قائداعظم یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں طلبہ یونینز بحال کرنے کا حکم دیا گیا، اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس بھی ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے سپریم جوڈیشل کونسل کو طریقے سے چلایا جایا، پرانی شکایات سے آغاز کیا، جن شکایات پررائے آ چکی تھی ان سے آغاز کیا، مزید 100 شکایات کچھ دن پہلے جائزے کیلئے ججز کو بھجوائی گئی ہیں، کسی نے کہا تھا حال دل صحافیوں کو نہ سنانا وہ کئی زاویوں سے لکھا جائے گا، سچائی میں ہی ہماری نجات ہے، ہدف ہرشہری کا سچائی پر مبنی ہونا چاہیے چاہے ہم سے اتفاق ہو یا نہ ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ کورٹ رپورٹرزکے ذریعے عدالتی کارروائی عوام تک پہنچتی ہے، آج کی نشست عدالت عظمیٰ اورعدلیہ کے صحافیوں کیلئے مختص ہے، سپریم کورٹ بار، پاکستان بارکونسل کاشکریہ اداکرتاہوں۔

متعلقہ خبریں