Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلاول بھٹو کا مسلم لیگ ن کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو مناظرے کا چیلنج

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو مناظرے کا چیلنج کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کی معیشت، جمہوریت اور پارلیمان میں دلچسپی نہیں تھی، مجھے وزارت چھوڑنی چاہیے تھی، کوشش بھی کی تھی، ن لیگ کا بیانیہ ہے’’ساڈی گل ہو گئی‘‘، میثاق جمہوریت پر صرف پیپلز پارٹی نے عمل کیا، نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر پہلے عمل نہیں کیا، اب تو پھاڑ کر پھینک دیا، پارٹی نے مجھے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے پرانی سیاست کرنی ہے تو ساتھ نہیں دوں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف خود کو مسلط کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف سمجھتے ہیں جیسے پہلے آیا تھا اب بھی آئیں گے، نواز شریف کو واپس آکر انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی، پتا نہیں ن لیگ نے کیوں انتخابی مہم نہ چلانے کا فیصلہ کیا، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کر رہے ہیں، نواز شریف نے واپس آکر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ججز سے حساب لینا ہے، نواز شریف نے کبھی اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھا، نواز شریف اپنی آخری اننگز کھیلنے جا رہے ہیں، ن لیگ پرانی سیاست کرتی آرہی ہے انہوں نے وہی سیاست کرنی ہے، دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔

چیئرمین پارٹی نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ چلنے کا کوئی ارادہ نہیں، ایسی حکومت نہیں چاہیے جو اپنے کیسز ختم کرے اور مخالفین پر بنائے، 18 ماہ کوشش کرتے تو پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی، ن لیگ اور پی ٹی آئی حکومت میں اپوزیشن کو مشکل میں ڈالا گیا، آصف زرداری کے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، 9 مئی کو ادارے پر حملے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اکثریت کسی کو چوتھی بار وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی، آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے، آزاد امیدواروں کو ملا کر 172 کا نمبر کراس کریں گے، بہت سے امیدواروں سے ابھی سے رابطے میں ہیں، 8 فروری کو سرپرائز دیں گے، ملک بھر میں 30 لاکھ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے، سندھ میں 20 لاکھ گھر بنانا شروع کر دیے ہیں، سندھ میں 20 لاکھ گھر بنا سکتا ہوں تو ملک میں 30 لاکھ گھر بنانا مشکل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کا صفایا ہو گیا تھا، اشرافیہ کو سالانہ ایک ہزار 500 ارب کی سبسڈی دی جا رہی ہے، ہم ان وزارتوں اور اشرافیہ کی سبسڈی بند کرنا چاہتے ہیں، عام آدمی کو سپورٹ کرنے سے معیشت کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، اشرافیہ کی سبسڈی بند کرنے کا کہیں گے تو آئی ایم ایف مخالفت نہیں کرے گا، میں بھی منشور پیش کیے بغیر کہہ سکتا تھا کہ وزیراعظم بنا دو، الیکشن کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا دے دیا ہے۔

بلاول بھٹو جب بھی الیکشن میں وعدے کیے ان کو پورا کیا، اپنے منشور کے ذریعے مہنگائی غربت بےروزگاری کا مقابلہ کریں گے، ہم معاشی بحران سے گزر رہے ہیں اس کا مقابلہ ضروری ہے، 2015 میں ہماری 17 وزارتیں بند ہونی تھیں جو نہیں ہوئیں، کچھ ایسے فیصلے کیے جو میرے نظریے کے مطابق نہیں تھے، پارٹی اور آصف زرداری کو کہتا تھا اس طرح نہیں چل سکتا۔

 

متعلقہ خبریں