اسلام آباد: غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز 634 افغان شہری واپسی چلے گئے۔
حکومتی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز 634 افغان شہریوں کی واپسی ہوئی، جن میں 189 مرد، 153 خواتین اور 292 بچے شامل تھے، افغانستان روانگی کے لیے 64 گاڑیوں میں 82 خاندانوں کی اپنے وطن واپسی عمل میں لائی گئی۔
پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی کل تعداد 462,187 تک پہنچ چکی ہے، تاہم حکومت پاکستان کے اعلان سے قبل بھی غیر قانونی افغان باشندوں کی کثیر تعداد گرفتاری کے ڈر سے پاکستان سے واپس افغانستان جاتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے افغان باشندوں کی میزبانی کر رہا ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان میں غیر قانونی طور پرمقیم افغان شہریوں کی بڑھتی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کو ان کو واپس بھیجنا پڑا، پاکستان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، خطے میں صرف پاکستان واحد ملک نہیں ہے جس نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال کے گزشتہ تین مہینوں میں ایران اور پاکستان نے تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد غیر دستاویزی افغان شہریوں کو طالبان کے زیر اقتدار افغانستان واپس بھجوایا۔
طالبان کے پناہ گزینوں اور وطن واپسی کے وزیر عبدالرحمن راشد نے پیر کو مقامی طلوع نیوز چینل کو بتایا کہ ایران نے ستمبر کے آخری ہفتے سے “تقریباً 345,000” غیر قانونی افغان باشندوں کو ملک بدر کیا ہے۔
حکومت پاکستان نے اس حوالے سے بار بار واضح کیا ہے کہ کریک ڈاوٴن میں تقریباً 2.3 ملین قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے، پاکستان میں غیر قانونی افغان شہریوں نے رواں سال ایک درجن سے زائد خودکش بم دھماکے کیے جو حکومت پاکستان کی پالیسی کے جائز ہونے کی واضح دلیل ہے، دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح پاکستان کو اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کیلئے ضروری اقدامات کرے، غیر قانونی افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔















