وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ شفاف ترین امتحانات کو منعقد کرنا اولین ترجیح ہے۔
انٹر بورڈ کارڈینیشن کمیشن میں نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں میں گیا اور تمام صوبوں کے وائس چانسلرز سے میں نے ملاقات بھی کی، جب میں اقتدار میں آیا تو بہت مسائل کا ہمیں سامنا کرنا پڑا پھر اسلام آباد سے میں نے بہتری کے کام کا اجراء کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے اسکولوں کی ایسی حالت تھی تو میں دوسرے صوبوں کے اسکولوں سے کیا توقع رکھو، ہمارے پاس کوئی ایک مسئلہ نہیں ہے، اردو یونیورسٹی سے وائس چانسلر سے میں نے ایک سوال کیا تھا کہ اتنے افسران بھرتی کرلیئے تنخواہیں کہا سے دینگے؟
مدد علی سندھی نے یہ بھی کہا کہ جہاں جاؤ وہ ادارہ این جی او کو دیدیا جاتا ہے، اسکولوں میں جاؤں تو لڑکیاں چٹائی میں بیٹھ کر پڑھتی ہے، یہ صورتحال دیکھ کر بہت ہی افسوس ہوا، میں سندھ میں آیا تو بہت سی شکایتیں تھی، میں نے سندھ کے نگراں وزیر اعلیٰ کو شکایت کی، میں نے ایک یونیورسٹی کے ہاسٹل کا دورہ کیا، ہاسٹل میں سہولیات کا فقدان تھا، سندھ کے کسی بورڈ کے پاس آن لائن سسٹم نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس اٹھائیس ڈپارٹمنٹ ہے، کچھ ایسے صوبہ ہے جن کے سینیٹر نے کبھی نہیں پوچھا کہ یونیورسٹی کیسی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہے، شفاف ترین امتحانات کو منعقد کرنا اولین ترجیح ہے، میڈیا اپنا اہم کردار ادا کریں۔
نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی کا مزید کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو پروگرام کے تحت وہ بچے جو باہر کام کرتے ہے ان کو وضیفہ ملنا چاہیے، امید ہے آگے آنے والی حکومت تعلیم کی بہتری کے لیئے اپنا فرض پورا کریگی۔



















