سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اس وقت جو بھی حکومت اٹھائے گا یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے پہلے روز پینل ڈسکشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم سب کی دعا ہے کہ جو بھی حکومت بنے وہ ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچائے۔
انہوں نے کہا کہ میری تو خواہش تھی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت بنائی جائے، کیوں کہ پی ٹی آئی کو بھی ووٹ ملا ہے، یہ 24,25کروڑ کا ملک ہے، آج جو مہنگائی ہے وہ تاریخ کی سب سے بڑی مہنگائی ہے، حکومت کی پہلی ترجیح مہنگائی کو کم کرنا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ہارنے والا یہ نہ کہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی، اس وقت جو بھی حکومت اٹھائے گا یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا، میری خواہش ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ملکر قومی حکومت بنے اور سب ملکر حکومت بنائیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں کسی وزیر اعظم نے اپنا وقت پورا نہیں کیا، مجھے نہیں لگتا یہ حکومت اپنا ٹائم پورا کرے گا، ہر مہینے 24،25 فیصد مہنگائی بڑھ رہی ہے، مہنگائی سے عوام پریشان ہے اس ملک میں 40 فیصد سے زائد غریب طبقہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو نئی حکومت بنے اسکا کام ہے آئی ایم ایف سے ڈیل کرے، اس وقت حکومت بنانا مشکل ہے، اگر شہباز شریف وزیر اعظم بنتے ہیں تو اللہ کرے وہ کامیاب ہوں۔



















