الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کمشنرراولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے کمشنرراولپنڈی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کی جلد از جلد انکوائری کروانے کا حکم دے دیا۔
ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن، کمشنرراولپنڈی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے کسی عہدہ دار نے الیکشن نتائج کی تبدیلی کے لیے کمشنر راولپنڈی کو کبھی بھی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ڈویژن کا کمشنرنہ تو ڈی آراو، آراو یا پریذائیڈنگ آفیسرہوتا ہے اور نہ ہی الیکشن کے کنڈکٹ میں اس کا کوئی براہ راست کردارہوتا ہے۔
ادھر نگران وزیراطلات پنجاب عامرمیر نے کمشنرراولپنڈی لیاقت علی چھٹہ کو دماغی مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر راولپنڈی نے 13 مارچ کو ریٹائر ہونا ہے، کمشنرراولپنڈی کے پاس 8 فروری انتخابات میں کوئی عہدہ نہیں تھا۔
نگران وزیراطلاعات نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی مذمت کرتا ہوں، جو شخص خود کشی کی بات کررہا ہے وہ سائیکو ہوسکتا ہے، الزامات کا مقصد الیکشن کی ساکھ کو متنازع کرنا ہے۔
کمشنرراولپنڈی کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پروزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔
وزیراعلی محسن نقوی نے الزامات کی انکوائری کے لئے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے گی۔ کمشنرراولپنڈی کے الزامات کے حوالے سے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔
دوسری جانب عام انتخابات میں کمشنر راولپنڈی کی جانب سے سہولت کاری کے معاملے پر راولپنڈی پولیس نے کمشنر راولپنڈی کو تحویل میں لے لیا۔
واضح رہے کہ کمشنرراولپنڈی نے عام انتخابات میں دھاندلی اور نتائج تبدیلی کا اعتراف کیا تھا۔



















