لاہورہائیکورٹ نے نومئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کر دی۔
جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے زمان خان وردگ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
وکیل درخواست نے مؤقف اختیارکیا کہ فیصل آباد میں نو مئی کے کیسز میں 250 سے 300 افراد نامزد ہیں، قانون کے مطابق ٹرائل اوپن کورٹ میں ہونا چاہیے۔
وکیل درخواست گزارکی جانب سے کہا کہ گیا کہ قانون کے مطابق، عدالت اس حوالے سے ابتدا کرتی ہے، عدالت کی طرف سے ایسی کوئی ابتدا نہیں کی گئی۔
وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ جیل ٹرائل کی جگہ کا تعین تو حکومت کر سکتی ہے، مگراس معاملے کی ابتدا عدالت سے ہوگی، نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کا جیل ٹرائل کرنے کا نوٹیفکیشن قانون کے منافی ہے۔ جیل ٹرائل صاف شفاف نہیں ہوسکتا، ہائیکورٹ کے رولز کی روشنی میں جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
درخواست گزارکیا جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردے، عدالت صاف شفاف ٹرائل کرنے کا حکم دے۔
