ملکی معاملات میں ایک بار پھر سے غیر ملکی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دی جانے لگی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آج آئی ایم ایف کو خط جاری کریں گے، خط میں دھاندلی والے حلقوں میں آڈٹ کا کہا جائے گا۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا جائے گا کہ آئی ایم ایف دیکھے دھاندلی ہوئی یا نہیں، آئی ایم ایف،یورپی یونین اور دیگر آرگنائزیشن کا اپنا ایک چارٹر ہے، ان کا چارٹر کہتا ہے ملک میں اسی وقت وہ کام کی اجازت، قرضہ دیں گے جب گڈ گورننس ہو، گڈ گورننس کی اہم شق یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہو، جس ملک میں جمہوریت نہیں وہاں بین الاقوامی ادارے کام کرنا نہ پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا سب سے بڑا ستون فری اینڈ فیئر الیکشن ہیں، پوری دنیا نے دیکھا لوگوں کا مینڈیٹ رات کے اندھیرے میں چوری ہوا، پری پول کے بعد پوسٹ پول ریگننگ بھی راتوں رات رات کی گئی، ہمارے امیدواروں کو ہرایا گیا، چوری کے مینڈیٹ میں جمہوریت نہیں چل سکتی، اگر الیکشن فری اینڈ فیئر نہیں ہوئے تو کوئی بھی ادارہ لون نہیں دے سکتا، جو قرضہ دیا جائے گا عوام پر اور بوجھ بڑھے گا۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا سب سے بڑا ستون شفاف الیکشن ہیں لیکن ایسی حکومت جس کے پیچھے عوام کا اعتماد نہ ہو وہ قرض واپس کرنے میں ناکام ہوگی، ایسی حکومت ملک کی ترقی میں، بحرانوں کوحل میں ناکام رہے گی۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی سے دوبارہ ملاقات ہوئی ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے گی ، چوری کے مینڈیٹ میں جمہوریت نہیں چل سکتی۔



















