Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر انتخابات کو دھاندلی زدہ ثابت کرنے کی کوشش کی، سابق کمشنر راولپنڈی

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے دھاندلی سے متعلق اپنے بیان پر الیکشن کمیشن سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ مجھے الیکشن کو دھاندلی زدہ ثابت کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے والے سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق سابق کمشنر راولپنڈی نے الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کروا دیا۔

سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بہت دباؤ میں تھا، 9 مارچ کو ریٹائر ہورہا تھا، مراعات کے چھوٹنے پر پریشان تھا، ایسے میں مجھے الیکشن کو دھاندلی زدہ ثابت کرنے کے کام کا کہا گیا  اور میں نے بھرپورڈرامہ کیا، مجھے پھانسی پر لٹکادو جیسے جذباتی جملے بولے تاہم حقیقیت میں مجھے بشمول الیکشن کمیشن کسی نےدھاندلی کی کوئی ہدایت نہیں دی۔

سابق کمشنرراولپنڈی لیاقت چھٹہ نے الیکشن کمیشن سےمعافی مانگتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکی جانب سےکسی امیدوارکی حمایت کی ہدایات نہیں تھیں، تمام سرکاری ملازمین سےمعافی مانگتا ہوں جب کہ میں نے کسی ریٹرننگ افسرکوحمایت یا انتخابات میں مداخلت کاحکم نہیں دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بطور سیکریٹری پنجاب سیاسی جماعت سے قریبی تعلقات بنائے، ایک عہدیدار سے تعلقات اس لیے بنائے تاکہ مستقبل میں کام آسکیں لیکن سیاسی جماعت کا عہدیدار9 مئی واقعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے مفرور ہوگیا، عہدیدارسے میرا رابطہ رہتا تھا، میں اس کی خفیہ مددبھی کرتا تھا۔

لیاقت چھٹہ کا مزید کہنا تھا کہ 32 سال سرکاری خدمات انجام دیں اور 13 مارچ 2024 کومیں نےریٹائر ہونا تھا،  تمام ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور حکام کے آگے سرنڈر کرتا ہوں۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے راولپنڈی ڈویژن کے 6 ڈی آر اوز اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آراوز کے بیانات ریکارڈ کیے تھے جبکہ پیمرا نے سابق کشمنر راولپنڈی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا۔

ڈی آر اوز اور آر اوز کی جانب سے بیانات میں دباؤ اور دھاندلی کے الزامات کو مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ حلقوں میں انتخابات کے لیے پرامن، صاف اور شفاف پولنگ ہوئی۔

واضح رہے کہ 17 فروری کو سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ انتخابی بے ضابطگیوں پر مستعفی ہو گئے تھے اور خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں