مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو اسپیکر آئینی طور پر خود اجلاس بلا سکتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ صدر مملکت مقررہ وقت تک اجلاس نہیں بلاتے تو اسپیکر قومی اسمبلی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ 21ویں دن قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیں اور اس حساب سے 29 فروری آخری تاریخ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ صوبوں میں بھی اگر گورنر اجلاس نہیں بلاتا تو وہاں بھی یہی اصول لاگو ہوگا۔
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت کے پاس قومی اسمبلی اجلاس پیر کو بلانے کی سمری کل بھیجی گئی ہے لیکن صدرمملکت کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی سمری 15 دن تک روکنے کا آئینی اختیار رکھتا ہوں۔
صدر پاکستان کو بریفنگ دی گئی کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو لازمی بلانا پڑے گا، آئین پابند کرتا ہے کہ انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس لازمی بلایا جائے۔
اگر 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسی دن حلف کے بعد نئے اسپیکر کا شیڈول جاری کیا جائے گا پھر یکم مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کروائے جائیں گے اور دو مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد اسی دن ڈپٹی اسپیکر کا بھی چناؤ کر لیا جائے گا۔



















