سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب احمد نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ماننے سے انکار کردیا۔
گورنر ہاؤس پنجاب میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ (ن) کی نامزد امیدوار مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئیں اور انہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھالیا۔
خیال رہے کہ مریم نواز 220 ووٹ لےکر پاکستان کی تاریخ کی پہلی وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں جب کہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
اسمبلی اجلاس کے آغاز میں ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے شور شرابہ شروع کر دیا جس پر اسپیکر ملک احمد خان نے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی تاہم سنی اتحاد کونسل کے اراکین اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔
بعد ازاں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے وزیراعلیٰ کے نامزد امیدوار رانا آفتاب نے کہا کہ آج پنجاب اسمبلی میں جمہوری عمل کا سیاہ دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکرپنجاب اسمبلی نے جمہوری عمل جس طرح بلڈوز کیا ایسا سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھا، ہم بڑا دل کرکے آئے تھے لیکن ہمیں بولنے ہی نہیں دیا گیا، صرف یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہمارے ارکان کو اندرآنے دیا جائے۔
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہاسپیکر سمجھتے ہیں کہ ان کو قانون پر بہت عبور ہے، میرا یہی کہنا ہے کہ جمہوری عمل کے لیے ہم اس انتخاب کو نہیں مانتے، انہوں نے ممبران کو زر خرید سمجھا ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارا نمبر 140 سے کراس کر جائے گا لیکن اسپیکر بضد تھے کہ ہمیں بات نہیں کرنے دینی، ہم اس الیکشن کو نہیں مانتے، آج ایوان سبزی منڈی بنا ہوا تھا، پنجاب اسمبلی کے رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے تاہم ہم بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔



















