چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مخصوص نشستیں لینے سے انکار کرنے کی تردید کردی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کی حقائق کے برعکس تشریح کی جارہی ہے۔
انہوں نے وضاحت دی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان عام انتخابات کرانے کے بعد تمام پارٹیوں کو خط لکھتا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں 5 فیصد کوٹا خواتین کو دیا جاتا ہے، وہ خط صرف ہمیں نہیں لکھا گیا تمام جماعتوں کو لکھا گیا ہے۔

حامد رضا نے کہا کہ چونکہ سنی اتحاد نے جنرل نشستوں پر الیکشن میں حصہ نہیں لیا اس لیے ہم نے صرف یہ بتایا کہ ہم نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا اس لیے ہمارے پاس 5 فیصد خواتین کو ٹکٹ دینے کی ایسی کوئی فہرست موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو خط میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص نشستیں نہیں چاہیئیں، ہمارے پاس خط موجود ہے، اس خط میں مخصوص نشستوں کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔
حامد رضا کا مزید کہنا تھا کہ میرا بیان حلفی موجود ہے کہ اگر ہم الیکشن لڑیں گے تو مخصوص نشستیں لیں گے تاہم میرے خط کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کے خط بھی ہمارے پاس ہیں، باقی الیکشن کمیشن جو مرضی فیصلہ کرلیں، چیف الیکشن کمشنر کی مرضی ہے جو مرضی سمجھنا چاہیں سمجھیں۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے کیس کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مخصوص نشستیں لینے سے انکار کردیا۔



















