مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی قسم کے تشدد کی پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سرگودھا میں گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کے بعد قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سرگودھا میں ملازمہ پر مبینہ تشدد کے بعد قتل کے واقعہ کی انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔
مریم نواز شریف نےکہا کہ واقعہ کی جامع تحقیقات کرائی جائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، کسی قسم کے تشدد کی پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔
سرگودھا ؛ 12 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ جسمانی تشدد سے جاں بحق
سرگودھا کے علاقہ لکسیاں میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ جسمانی تشدد سے جاں بحق ہوگئی، پولیس نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔
سرگودھا کے چک 84 جنوبی کے محمد طاہر کی 12 سالہ بیٹی عائشہ ٹھیکیدار جواد بھٹی کے گھر 2 ماہ سے ملازمہ تھی۔
عائشہ کے والد طاہر کا کہنا ہے کہ میری بیٹی سے 20 دن سے ہماری فون پر بات بھی نہیں کروائی گئی، ہم نے متعدد بار جواد جس کے گھر ہماری بیٹی کام کرتی تھی اسکو کہا کہ ہماری بیٹی سے بات کروائیں تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔ گزشتہ رات جواد کے کزن نے ہمیں فون کر کے گھر بلوا گیا جہاں میری بیٹی کی نعش کمرے میں موجود تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ اس کی طبعی موت ہوئی ہے۔ جب میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو میری بیٹی کا ہاتھ بھی جلا ہوا تھا ۔ جسم پر بھی تشدد کے نشانات تھے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لکسیاں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کر دی۔ بچی کے والد کی مدعیت میں لکسیاں پولیس میں ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے،ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں۔
بچی کے والد نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور ان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔



















