پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اورہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج کریں گے۔
بول نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھاشن اپنے پاس رکھے، آئین میں مخصوص نشستوں کی حیثیت واضح ہے، آئین کہتا ہے جس پارٹی کی نشستیں ہیں، مخصوص سیٹیں بھی اسی کو ملیں گی۔
حامد رضا کا کہنا تھا کہ میں کس نشان پر الیکشن لڑا یہ استحقاق الیکشن کمیشن کا نہیں ہے، سنی اتحاد کونسل الائنس میں تھی، جب نشان جمع کرانا چاہا تو آراو نے کہا کہ آپ کی حیثیت آزاد ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رولز اور پروسیجر آئین کے تابع نہیں ہیں، آئین رولز اور پروسیجر کے تابع ہے، اس پر لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے فیصلہ دیا تھا، فیصلہ دیا تھا تاخیر پر پارٹی کو مخصوص نشستوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
حامد رضا نے مزید کہا کہ 2018 میں کچھ آزاد امیدوار جیتے اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں شامل ہوئے، حالانکہ اس وقت باپ پارٹی ای سی پی میں رجسٹرنہیں تھی۔
پروگرام میں موجود پیپلزپارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان نے کہا کہ اگر مینڈیٹ لیا ہے تو وہ قانون سے بالاترنہیں ہے، مینڈیٹ سب کوعوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ملا ہے، آئین اورقانون کے ذریعے سنی اتحاد کو حق دے دینا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اورہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج کرسکتے ہیں، الیکشن کا انعقاد اور پھر اسکے نتائج عوام کے سامنے ہیں، ہرمعاملے میں ہمیں ہمارے حق سے دورکرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی نشستیں انہیں دینا آئین کاتقاضہ ہے، ہم نے لیگل کور کے لیے سنی اتحاد کو جوائن کیا ہے، سینیٹ اور صدر کے انتخاب سے پہلے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔
اس سے قبل سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ایک منٹ بھی اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے، اس فیصلے کے بعد صدارتی اور سینیٹ کے الیکشن ہمیں منظور نہیں ہوں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلےکو چیلنج کریں گے۔



















