سراج الحق نے کہا ہے کہ عوامی فیصلوں کا احترام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ، پی پی، ایم کیو ایم کی عبرت ناک جیت نے انہیں مزید آشکار کردیا، پاکستان کی حکومت خاموش ہے حتی کہ الیکشن کے بعد وزیراعظم منتخب ہوگئے تو امید تھی سب سے بڑے اسلامی ملک کے وزیر اعظم حلف کے بعد غزہ کی بات کرے گا لیکن ایک لفظ تک نہ بولا۔
سراج الحق نے کہا کہ عوامی فیصلوں کا احترام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ پی ڈی ایم ٹو کمپنی نہیں چلے گی، عوام نے انہیں مسترد کردیا، ہیر پھیر سے نظام نہیں چلتا، معاشی و سیاسی بحران منہ کھولے کھڑے ہیں، سیاسی جماعتوں کو شفاف الیکشن کا نظام وضح کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ آٹھ مارچ پر خواتین کے عالمی دن پر اپیل کروں گا عورت مارچ میں حصہ لینے والی غزہ و فلسطین کے نام پر مارچ کریں ، پاکستان کی خواتین سے اپیل کروں گا آٹھ مارچ کو فلسطینی مائوں بہنوں کے نام کردیں، اہل غزہ سے یکجہتی غزہ بچانے اسرائیلی امریکی مظالم کے خلاف دس مارچ کو اسلام آباد میں آب پارہ سے امریکی سفارت خانے تک مارچ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ووٹ تبدیل ہوتے تھے اب نتائج تبدیل ہوتے ہیں، وہ لوگ مسلط کئے گئے جس سے قوم نجات چاہتی تھی، متناسب نمائندگی کا اصول قائم کیے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔
سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہارنے و جیتنے والے پریشان ہیں فارم 45سڑکوں پر اور فارم 47والے حلف اٹھا رہے ہیں، جماعت اسلامی خدمت کرنے والی جماعت ہے، جماعت اسلامی نے الیکشن نتائج کو مسترد کردیا ہے 2024الیکشن 2018کا ری پلے ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ ادارے حلف کی پاسداری اور عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئے، جماعت اسلامی کا مینڈیٹ چرایا گیا، دھاندلی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔



















