Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت کی پالیسی ملک میں معاشی استحکام لانا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے بھی پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا اور آئندہ بھی ملک میں معاشی استحکام لائے گی۔ 

بول نیوز کے پروگرام ’تبدیلی‘ میں ڈاکٹر دانش کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پچھلے دور حکومت میں معیشت مستحکم تھی اور مہنگائی بھی زیادہ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ  2018 میں مہنگائی 4 فیصد پر تھی اور پھر جب پاکستان تحریک انصاف کو حکومت ملی تو انہوں نے اپنے 4 سالہ دور میں معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔

’آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک سے غداری ہے‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے میں پی ٹی آئی کا بڑا کردار رہا ہے، پی ٹی آئی نے اپنے دور میں نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچایا بلکہ انہوں نے سی پیک کی رفتار بھی سست کی اور جھوٹے احتساب کا نعرہ لگاکر جو تباہی مچائی گئی اس کی نظیر نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے ملکی معیشت کو نقصان ہو اور آئی ایم ایف کو خط لکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک کے ساتھ غداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاست کی خاطر ریاست کو قربان کرنا چاہتی ہے، ایک سیاسی جماعت جو 9 مئی کے حملے کرتی ہے، شہیدوں کا مذاق اڑاتی ہے، ایسے عناصر سے نمٹنا ہوگا۔ معیشت کو تباہ کرنے میں جتنا حال پی ٹی آئی کا ہے اور کسی کا نہیں ہے۔

’ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا‘

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ 16 ماہ میں جب ہمیں حکومت ملی تو یہی کہا جارہا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا لیکن ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور آئی ایم سے گفتگو کے ذریعے ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ختم کی جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھے بلکہ پاکستانی روپے بھی مستحکم ہوا۔

نگران حکومت کے معاشی استحکام سے متعلق سوال پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ مسائل بے شمار ہیں، معیشت کی حالت سب کے سامنے ہیں لیکن نگران حکومت کے دوران جو استحکام آیا، روپے مستحکم ہوا، ہم اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے اور ملک میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کریں گے۔

’ہماری پالیسی ملک میں معاشی استحکام لانا ہے‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ کسی طرح معیشت کو مستحکم کیا جائے جس کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے، نجکاری کا عمل تیز کرنا ہے، ایف بی آر کی تنظیم نو کرنی ہے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ضروری ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بلین آف ڈالرز کی سرمایہ کاری ہورہی ہے، سرمایہ کاروں کو نہ صرف تحفظ ملے گا بلکہ انہیں ایک اچھا ماحول بھی ملے گا۔

’آئی ایم ایف سے بات چیت کے اچھے نتائج نکلیں گے‘

آئی ایم ایف سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ گفتگو مثبت انداز میں جاری ہے اور اس کے اچھے نتائج بھی نکلیں گے لیکن ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم اس معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ جی ایچ کیو معمول کے مطابق تھا جس میں وزیراعظم کو مختلف امور پر بریفنگ دی گئی اور ہر وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یہ دورہ کرتا ہے جب کہ نواز شریف آج بھی ہمارے قائد ہیں، وہ نہ صرف ہماری سیاست کے ابتدا ہیں بلکہ انتہا بھی ہیں۔

’حکومت غریب کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے‘

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کابینہ میں شمولت پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ 19 رکنی کابینہ میں اکثریت سیاسی لوگوں کی ہے، اور اگر ایسے میں دو ٹیکنوکریٹ لوگوں کو وزارت دی گئی ہے تو ہم ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جب کہ معیشت کی بہتری کے لیے ہمیں تجربہ کار شخص کی ضرورت تھی اور اورنگزیب صاحب کو بینک کی فیلڈ میں بہت تجربہ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کو معاشی معاملات پر بہت عبور حاصل ہے اور وہ ہمیشہ اس موضوع پر بہت اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں جب کہ نجکاری کے معاملات بہت تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں اور حکومت نہ صرف اپنے اخراجات کم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے بلکہ غریب کو ریلیف دینے کے بارے میں بھی سوچا جارہا ہے اور یہی حکومت کی پالیسی ہے۔

’وزیراعظم اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہیں‘

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بالکل اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں ہیں، جہاں تک محسن نقوی کو وزارت داخلہ جیسی اہم وزارت دینے کا سوال ہے تو وہ ان کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب کارکردگی کا نتیجہ ہے، انہوں نے بہت کم وقت میں پنجاب میں نہ صرف اہم پراجیکٹس پر کام شروع کیا بلکہ ہم سب نے دیکھا کہ انہوں نے عام انتخابات کا انعقاد بھی پر امن طریقے سے کروایا جہاں کسی سیاسی ورکرز یا پولنگ ایجنٹ کو نہیں روکا گیا، وہ ایک قابل شخص ہیں اور یہی دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کیا۔

پیپلزپارٹی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی مکمل طورپر حکومت میں شامل ہے میں انہیں حکومت سے علیحدہ نہیں سمجھتا وہ الگ بات ہے کہ وہ وفاقی کابینہ میں نہیں بیٹھے لیکن صدر پاکستان وفاق کی علامت ہے اور آصف زرداری جیسی شخصیت کی موجودگی میں مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکومت اپنا وقت پورا کرے گی۔

متعلقہ خبریں