اسلام آباد ہائی کورٹ نے چار سالہ بچے سے مبینہ زیادتی کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ضمانت خارج کی۔ متاثرہ چار سالہ بچہ والد کے ساتھ اپنے وکیل سردار مرتضیٰ کے ساتھ عدالت پیش ہوئے۔
وکیل ملزم نے مؤقف پیش کیا کہ بچے سے زیادتی کی ڈی این اے رپورٹ آچکی ہے جو کہ نیگیٹو ہے۔ ایف آئی آر میں لگائے گئے دفعات کے تحت سزائے موت کی سزا ہے۔
چارسالہ بچے سے مبینہ زیادتی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ عدالت نے استفسارکیا کہ زیادتی کے اس کیس میں ان دفعات کے تحت سزا کیا بنتی ہے؟
تفتیشی افسرنے کہا کہ اس کیس میں دو مرتبہ چالان جمع کردیا ہے جبکہ 13 گواہان بھی ہیں، جس پرعدالت نے تفتیشی سے استفسارکیا کہ تیرہ گواہوں کو کیس میں شامل کرنے کا کس نے کہا ہے؟
وکیل ملزم نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ اصل میں خاندانی لڑائی کا ہے، ملزم اور متاثرہ بچہ کزنز ہیں۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ اگرچارسال کا بچہ بیان دے رہا ہے تو کچھ تو ہوگا ناں اس کے ساتھ کی عدالت نے ملزم ساجد خان کی درخواست ضمانت خارج کردی۔
سیشن کورٹ سے درخواست ضمانت خارج ہونے پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔




















