Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خواجہ آصف کو پی ٹی آئی سے مفاہمت اور پیپلز پارٹی سے نجکاری کی حمایت کی امید

وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ملکی مجموعی صورت حال میں مفاہمت لازمی طور پر ہونی چاہیے یہی اچھے پاکستانی کی نشانی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ افسوس عوام پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 24 قسم کے ٹیکسوں کے تحت بوجھ ہے، اصولاً عوام پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہونا چاہئے۔ ہم نے 24 قسم کے ٹیکس لگائے ہوئے ہیں جن کا بجلی یا گیس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔

خواجہ آصف کو پی ٹی آئی سے مفاہمت اور پیپلز پارٹی سے نجکاری کی حمایت کی امید ہے، ان کا کہنا ہے کہ ملکی مجموعی صورتحال میں مفاہمت لازمی طور پر ہونی چاہیے یہی اچھے پاکستانی کی نشانی ہے۔

مرکزی رہنما ن لیگ کہتے ہیں کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہزاروں ارب روپیہ کی ٹیکس چوری ہورہی ہے جب کہ عام و غریب آدمی چوری نہیں کرتا، اپر مڈل کلاس یا اس سے اوپر چوری ہوتی ہے۔ 900 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے اور اسی طرح گیس بھی چوری ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگ اس وقت بھی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری کرکے عام آدمی کا حق مار رہے ہیں، 300 ارب روپے تو صرف سگریٹ ٹیکس چوری ہورہی۔ 10 بلین ڈالرز کی چوری صرف سگریٹ سے ہوتی ہے جب کہہم 10 بلین ڈالرز کیلئے تو الٹے ہوکر آئی ایم ایف کی منتیں کررہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نجکاری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ 800 ارب روپے پی آئی اے پر قرض چڑھ چکا ہے، وہ ایک شخص سابق دور میں بیان دے گیا کہ 180 پائلٹ جعلی لائسنس ہولڈرز ہیں اور اس بیان کی وجہ سے آدھی دنیا میں ہماری فلائٹس بند ہوگئیں۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ ہم لگے ہوئے ہیں کہ پی آئی اے کی فلائٹس بحال کرالیں اس سے اچھی قیمت مل جائے گی جب کہ پی آئی اے کی نجکاری اب لازمی ہوچکی ہے کیونکہ اب بہت سی چیزیں آگے چلی گئی ہیں۔

نجکاری کے معاملے پر پیپلز پارٹی سے متعلق انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تو خود اچھی نجکاری کی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کو ہم پی آئی اے نجکاری پر قائل کرلیں گے اور امید ہے کہ وہ مان جائیں گے۔ پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے دور میں خود بہت اچھی نجکاری کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ ڈیلویپ ہوسکتا ہے، وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کو وزیراعظم شہباز شریف نے اچھے طریقے سے ویلکم کیا تھا۔ مفاہمت قومی ایشوز پر ہونی چاہیے، مفاہمتی عمل آگے نہیں بڑھتا تو پھر ہم کوئی اچھے پاکستانی نہیں ہوں گے۔

متعلقہ خبریں