وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ہمراہ فیصل آباد میں پتنگ کی ڈور سے جاں بحق نوجوان کے گھر ریلوے کالونی سمن آباد پہنچ گئیں۔
سینر منسٹر مریم اورنگزیب، پرویز رشید ، ارکان اسمبلی ، مسلم لیگ کے رہنما چیف سیکرٹری ، آئی جی پنجاب اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور قائد محمد نواز شریف نے آصف اشفاق کے والد محمد اشفاق اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ مریم نواز نے مرحوم آصف کی والدہ کو گلے لگاکر تسلی دی۔
مرحوم کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ آصف کی شادی کرنی تھی۔ والد نے کہا کہ ہمارا آصف چلا گیا، کسی اور کا آصف نہ جائے۔
وزيراعلیٰ پنجاب نےکہا کہ وہ خود بھی ایک ماں ہیں اور ماں کا دکھ سمجھتی ہیں، آصف اشفاق کی موت پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، پتنگ بازی تفریح نہیں، خونی کھیل بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین سماجی ذمہ داری پوری کریں۔ دھاتی تار بنانے، بیچنے اور خریدنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ واقعے کی خوفناک ویڈيو دیکھی نہيں جاتی، سب مل کر اس جرم کو روکیں۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا ک ہڈور منگوانے ، بیچنے اور خریدنے والے ٹریس ہوچکے ہیں، کے پی سے پانڈا ڈور کے زریعے سپلائی کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب فیصل آباد پولیس نے پتنگ کی ڈور سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی گرفتاری تاحال پولیس نے خفیہ رکھی ہے، گرفتار شخص جائے حادثہ سے نزدیکی ایک دکان کا مالک بتایا جارہا ہے، گرفتار شخص کی گرفتاری کا اعلان افسران پریس کانفرنس میں کریں گے۔
بعد ازاں مریم نواز اور نواز شریف نے سیوریج صفائی کے دوران جان سے ہاتھ دھونے والے واسا ورکرز کے لواحقین سے بھی ملاقات کی۔
مریم نواز نے متوفی آصف اور شان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ورثاء کو 5،5 لاکھ روپے کے امدادی چیک بھی دیے۔



















