Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے، احسن اقبال

احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت فائیو ایز اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس  ہوا جس  میں سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، وفاقی اداروں، وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ فائیو ایز معیشت کے تمام شعبوں میں بہتری لانے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے، فائیو ایز  پر عملدرآمد میں تمام وزارتوں کو مل کر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اعداد و شمار نہایت ہولناک ہیں، اگر یہی اعداد و شمار کسی کمپنی کے ہوں تو مالکان کی نیند اڑ جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مجموعی محاصل 7000 ارب جبکہ قرضوں اور قرض کی ادائیگی پر سروسز کی ادائیگی کے لئے 8000 ارب روپے سے زائد کی ضرورت پڑتی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ درپیش چیلنجز سے عہدہ براہ ہونے کے لئے ملک کے تمام اداروں کو مربوط کاوشوں، وسائل کے مؤثر استعمال، ترجیحات کی درست تعیین کی ضرورت ہے جبکہ ان پٹ کی بجائے آؤٹ پٹ یعنی موجودہ وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر نتائج کے حصول  مبنی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے، برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم ذر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں نا کام رہے ہیں۔

احسن اقبال نےکہا کہ ہمیں ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لئے ایکسپورٹ پر توجہ مرکوز رکھنا ہے، ہمیں برآمدات میں اضافے کے لئے تمام وسائل مہیا کرنا ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ 8 سالوں کے دوران ہمیں اپنی برآمدات کا حجم 30 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہے، گورننس میں بہتری اور معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ہم نے ڈیجیٹلائزیشن کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علم پر مبنی معیشت کے لئے ڈیجیٹلائزیشن اور اس کے لئے انفراسٹرکچر کی تشکیل ناگزیر ہے،2022 میں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہمیں بد ترین سیلاب اور تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی اداروں نے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرین ہونے والے اولین ممالک میں شامل کیا، ماحولیاتی تبدیلی نے پاکستان کے لئے پانی، زراعت اور خوراک کے چیلنجز کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سبز انقلاب 2 کے بنیادی اصولوں کو اپنا کر ماحولیاتی، آبی و زرعی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور صنعتی و گھریلو صارفین کے لئے قابل برداشت قیمتیں پیداواری صلاحیت میں اضافے کا بن سکتی ہیں۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنے سماجی شعبے میں مساویانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہیں، غریب آدمی کو اچھی تعلیم نہیں ملتی، تعلیم ہی ترقی کا پاسپورٹ ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات اور  بیماریوں اور موذی امراض سے نجات حاصل کرنے کے لئے صوبوں کی مدد سے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں