وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کابینہ۔نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔ چیف جسٹس کی جناب سے وزیراعظم سے ملاقات میں انکوائری کمیشن کی تشکیل کی تجویز دی گئی تھی۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کو کمیشن کا سربراہ نامزد کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز کی بھی منظوری دے دی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کمیشن ججزکے خط میں عائد کردہ الزامات کی مکمل چھان بین کرے گا۔ کمیشن تعین کرے گا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ انکوائری کمیشن تعین کرے گا کہ کیا کوئی اہلکار براہ راست مداخلت میں ملوث تھا۔ کمیشن اپنی تحقیق میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کسی ایجنسی، محکمے یا حکومتی ادارے کے خلاف کارروائی تجویز کرے گا۔
اعلامیہ کے مطابق کمیشن انکوائری کے دوران ضروری سمجھے تو کسی اور معاملے کی بھی جانچ کرسکے گا۔ کابینہ نے خط میں ایگزیکٹو کی مداخلت کے الزام کی نفی کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ دستور پاکستان میں طے کردہ تین ریاستی اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے اصول پرپختہ یقین رکھتے ہیں۔
کابینہ کے اعلامیے میں وزیراعظم شہبازشریف کا عدلیہ کی آزادی اور دستوری اختیارات کے تقسیم کے اصول پر کامل یقین رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اس خط کے بعد مشاورت اور چیف جسٹس سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کے فیصلوں اور اب تک کے اقدامات کی مکمل توثیق وحمایت کی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب بھی کیا۔



















