قومی اسمبلی میں 20 ایسے افسران کا انکشاف ہوا ہے جو دوہری شہریت کے حامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مختلف وزارتوں اور محکموں کے دوہری شہریت کے حامل افسران کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں جن میں گریڈ 18 سے گریڈ 22 کے 20 سرکاری افسران شامل ہیں۔
دوہری شہریت کی تفصیلات کے مطابق سارہ سعید سپیشل سیکرٹری کامرس گریڈ بائیس کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، صائمہ علی گریڈ 19سیکشن چیف پی اینڈ ڈی لاہور کے پاس بھی برطانیہ کی شہریت ہے۔
رابعہ اورنگ زیب گریڈ 18 داخلہ ڈوژن کی افسر کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے، جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ای اینڈ ڈی اسلام آباد گریڈ اکیس کے پاس بھی کینیڈا کی شہریت ہے۔
جوائنٹ سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز محمد وشاق گریڈ 20 کے پاس امریکہ کی شہریت ہے، او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن گریڈ 20 غلام مجتبی جویو کے پاس امریکہ کی شہریت ہے.
سیکرٹری خود مختار سندھ طحہ احمد فاروقی گریڈ 20 کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے جان محمد گریڈ 21 کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد زعیم اقبال شیخ گریڈ 20 کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، جبکہ ڈی آئی جی این شاہد جاوید گریڈ 20 کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔
ایس ایس پی انویسٹگیشن لاہور ندیم حسین گریڈ 19 کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں، ڈی آئی جی کوسٹل ہائی وے برکت حسین کھوسہ گریڈ 19 کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے.
اے آئی جی فنانس کوئٹہ سہیل احمد شیخ گریڈ 19 کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، ایس ایس پی میرپورخاص عادل میمن گریڈ 19 کے پاس امریکہ کی شہریت ہے۔
ایس ایس پی ایڈمن لاہور عاطف نذیر کے پاس امریکہ کی شہریت ہے، سی پی او دفتر سندھ لیفٹینٹ جنرل ر عمران شوکت کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔
ڈائریکٹر آئی پی بی ہیڈ کوارٹر لاہور فواد الدین ریاض کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، دفتر سی سی پی او لاہور حیدراشرف کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایم یو وقار احمد کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی جاوید احمد بلوچ کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔



















