اسلام آباد: ملک میں علاقائی تجارت کو بڑھانے کے لیے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا۔
وسط ایشیا کے ایک اور اہم ملک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے این ایل سی نے مؤثر طریقے سے رسائی حاصل کر لی، این ایل سی ٹرکوں پر مشتمل قافلہ 1400 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرتے ہوئے دارالحکومت دوشنبہ پہنچا۔
این ایل سی کے ٹرکوں کے ذریعے آلوؤں کی کھیپ برآمد کی گئی، تاہم نیشنل لاجسٹک سیل کے ٹرکوں نے اوکاڑہ اور رحیم یار خان سے دوشنبہ تک کا سفر صرف سات دنوں میں طے کیا۔
انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ کے تحت افتتاحی قافلے کی آمد پر دوشنبہ کسٹمز ٹرمینل ون پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی جبکہ تاجک وزیر ٹرانسپورٹ عظیم ابراہیم، این ایل سی کے ڈائریکٹر جنرل فرخ شہزاد راؤ، پاکستانی سفیر محمد سعید سرور، محکمہ کسٹم کے حکام اور نمایاں تاجک تاجر بھی تقریب میں شامل تھے۔
تاجکستان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معروف لاجسٹک آرگنائزیشن کی طرف سے زمینی نقل و حمل کے باضابطہ آغاز کو سراہا۔
تاجکستان کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاجک وزیر نے خطے میں اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ وزیر ٹرانسپورٹ نے تاجکستان تک پاکستانی ٹرکوں کی باآسانی آمدورفت کو مزید آسان بنانے کے لئے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا۔
این ایل سی کے ڈائریکٹر نے این ایل سی کے ذریعے تجارت میں تاجکستان کی اہمیت پر زور دیا اور این ایل سی قافلے کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے میں تعاون پر تاجک حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
این ایل سی کے ڈائریکٹر جنرل فرخ شہزاد راؤ نے باہمی تجارت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آئی آر کے نظام کے تحت این ایل سی کے ذریعے تجارت سے دونوں ممالک کی درآمدات اور برآمدات بروقت اور موثر طریقے سے ہونگی۔
اس موقع پر میجر جنرل فرخ شہزاد راؤ نے خطے کے 10 ممالک میں پھیلے ہوئے وسیع آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے علاقائی روابط قائم کرنے میں این ایل سی کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔















