کراچی: سندھ کابینہ نے تمام محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور متعلقہ سیکرٹریز شریک ہوئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سندھ کابینہ نے تمام محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دی جب کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر قانون اور ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ عدالتوں میں بھرتیوں پر پابندی کو ختم کروائیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پراجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) ڈونر ایجنسیز کے تعاون سے 100 ملین ڈالر کے پراجیکٹس شروع کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی پراجیکٹ صاف پانی کی فراہمی، واٹر بورڈ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کی مجموعی لاگت کا 40 فیصد ورلڈ بینک، 40 فیصد اے آئی آئی بی اور 20 فیصد سندھ حکومت ادا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اپنے حصے کے 646.756 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے جب کہ سندھ کابینہ نے لاڑکانہ یونیورسٹی کے لیے 400 ملین روپے کی بھی منظوری دی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو کہا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمشنر کے ذریعے ہر یونیورسٹی کا ایک بزنس پلان بنائیں، یونیورسٹی بننے کے بعد کس طرح اپنے اخراجات پورے کرے گی اس کا پلان ہونا چاہیے۔



















