کراچی میں ڈکیتوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے تراب زیدی کی نمازِ جنازہ خیر العمل امام بارگاہ انچولی میں ادا کر دی گئی۔
نماز جنازہ میں عزیز اقارب سمیت عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقتول کو وادی حسین میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
مقتول کو گزشتہ شب گلشن چورنگی کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر قتل کردیا گیا تھا۔
مقتول کی والد کا کہنا تھا کہ میرا ایک ہی بیٹا تھا اور گھر کا واحد کفیل تھا، ڈکیتوں نے ہمارا بیٹا ہم سے چھین لیا، تراب زیدی کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اب ان کا کیا ہوگا۔ ڈکیتی مزاحمت پر مسلسل قتل ہورہے جو روکنے چاہیے۔
والدنے کہا کہ خبروں پر روزانہ لوگ ڈکیتی پر قتل کردیے جاتے ہیں پولیس ناکام ہوگئی ہے، وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں اگر کچھ نہیں کرسکتے تو بچوں کے لیے کریں، معطل کیے جانے والے ایس ایچ او پھر دوبارہ تعینات ہوجائے گا، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اس واقعہ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
دوسری جانب آج ریڑھی گوٹھ میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے سماجی رہنما غلام نبی جت کا قتل ہوگیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ واقعہ ذاتی تنازع پر پیش آیا، غلام نبی جت گھر کے باہر بیٹھے تھے تو ملزمان نے فائرنگ کی، مقتول کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔



















