کوئٹہ: وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے ضلع بیکڑ میں کھلی کچہری کی جب کہ اس دوران وہ لوگوں میں گھل مل گئے۔
وزیر اعلٰیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی عید کے تیسرے روز بھی عوام میں رہے جب کہ ہر خاص و عام شخص کی رسائی با آسانی وزیر اعلٰیٰ تک رہی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ڈیرہ بگٹی کے ضلع بیکڑ میں کھلی کچہری کی جب کہ اس دوران انہوں نے لوگوں میں گھل مل کر عوامی مسائل سنے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام میں سے ہی ہوں اور عوامی مسائل کا ادراک ہے، عام آدمی کے مسائل کے حل کے لئے پوری نیک نیتی سے کام کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گورننس کا نظام شدید بدانتظامی کا شکار ہے جس کو درست کرنے میں وقت لگے گا۔ سو فیصد درست کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا لیکن درست سمت کا تعین ضرور کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں مختص وسائل سے بلوچستان کے ہر فرد کا علاج ملک کے مہنگی ترین نجی اسپتال سے ہوسکتا ہے۔ تعلیم کا بجٹ صوبے کے ہر بچے پر خرچ کریں تو ہر بچہ مہنگے ترین نجی اسکول میں تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔
میر سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ سوچنا ہوگا کہ مختص وسائل کا استعمال کیسے ہوررہا ہے اور بدعنوانی روک کر عوام کے وسائل عوام پر خرچ کرنا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان انسرجنسی کا تعلق پسماندگی سے نہیں، بلوچستان کا مسئلہ سمجھنا ضروری ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ انسرجنسی کی صورت حال کا فائدہ کس کو اور نقصان کس کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری امور میں جوابدہی کا عمل کمزور پڑچکا ہے، جزا و سزا کے بغیر گورننس میں بہتری نہیں آسکتی جب کہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کا محاسبہ ضروری ہے۔
وزیر اعلٰیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ ہمیں مصلحتوں سے نکل کر صوبے اور غریب عوام کے لئے سوچنا ہوگا، عوامی مسائل مختص وسائل کے غلط استعمال کے باعث ہیں۔



















