سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد استحکام آتا ہے لیکن یہ پہلا الیکشن ہے جس کے بعد عدم استحکام بڑھا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اس قیصر نے مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل الیکشن نہیں ریاستی دہشتگردی ہوئی ہے، اس حکومت کی اخلاقی اہمیت ہی نہیں، عوام ایک طرف اور اسٹبلشمنٹ ایک طرف ہے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد استحکام آتا ہے پہلا الیکشن جس کے بعد عدم استحکام بڑھا ہے، یہ اسمبلی ضیا الحسن کی مجلس شوری سے بھی کمزور ہے، یہ جعلی حکومت یے ملکی مسائل حل نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے حالات خراب ہیں فاننس منسٹر کشکول لیکر دنیا بھر جا رہا ہے، انتخابات کے دوران ہمیں جلسہ نہیں کرنے دئے گئے ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، پہلے کہا گیا سائفر کی حقیقت نہیں پھر اسی کیس پر بانی پی ٹی آئی کو سزا دی گئی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے کسی کے دباو میں نہیں آئیں گے، اس ملک کو آزاد عدلیہ دیں گے ملک میں سویلین سپرمسی ہوگی جب کہ مولانا فضل الرحمان سے دوبارہ بات ہو گی اور ہر اس پارٹی کیساتھ ہیں جو احتجاج میں شامل ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے بعد ملک معاشی عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے، ایرانی صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔



















