پنجاب میں کسان کے استحصال پر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی بھی کسانوں کے حق بول پرے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ متعلقہ وزراء وزیر اعلی سے مل کر کسانوں کے لیے پالیسی لے کر آئیں جبکہ اپوزیشن لیڈر نے کسان کے استحصال کے حقائق عوام کے سامنے رکھ دئیے۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس حسب روایت ایک گھنٹہ 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا, دوسرے روز بھی پری بجٹ بحث جاری رہی, اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن رکن رانا شہباز نے گندم کی کم قیمت پر خریداری کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا اور بتایا کہ آڑھتی 2800 روپے تک گندم خرید رہا ہے۔
صوبائی وزیر زراعت عاشق کرمانی نے ذمہ داری نگران حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت نے بلا ضرورت گندم امپورٹ کی, وزیر خوراک کے ساتھ مسئلے کے حل کے لیے مشاورت جاری ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ متعلقہ وزراء وزیر اعلی سے ملاقات کرکے پالیسی واضح کریں اور مسئلے کا حل نکالا جائے کیونکہ پنجاب کا کسان آج پریشان ہے۔
اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک 12 ایکڑ والا کسان گندم بیچ کر فارغ ہو چکا ہے, مڈل مین انہیں لوٹ رہا ہے, وزیر زراعت کی بات سے مایوسی ہوئی, کسان پر رحم کرکے پالیسی تبدیل کریں۔
حکومتی رکن افتخار چھچھڑ کا کہنا تھا کہ گندم خریداری کے لیے عملہ ہی تعینات نہیں, کمیٹی تشکیل دی جائے, اپوزیشن رکن سردار محمد خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کسان کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے یک زبان ہوکر گندم کے معاملے پر حکومت پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا, ارکان نے نگران حکومت کی جانب سے گندم امپورٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اسپیکر نے جمعرات کو گندم کے معاملہ پر بحث کروانے کا اعلان کیا۔
صوبائی وزیر پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمن نے ہیلتھ اتھارٹیز, ایجوکیشن اتھارٹیز, مختلف میٹروپولیٹن کارپوریشنز کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کیں۔
ارکان نے پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے مختلف تجاویز دیں۔
پنجاب اسمبلی اجلاس میں لوکل گورنمنٹ قانون میں ترمیم کی قرارداد ایوان سے منظور کی گئی جبکہ مری اور پہاڑی علاقوں میں یونین کونسل کی آبادی پچیس ہزار سے کم کرکے چھ ہزار کی جائے کی قرارداد بھی پیش کی گئی۔
اجلاس میں رانا منور غوث نے قومی اسمبلی کی طرح پنجاب اسمبلی اجلاس کا آغاز بھی قومی ترانہ لازمی قرار دیا جائے, ایجنڈا مکمل ہونے پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا.



















